حیدرآباد

حیدرآباد میں ممنوعہ چائنیز مانجا کے خلاف بڑی کارروائی، 191 بوبنز ضبط، دو ملزمان گرفتار

حیدرآباد میں عوامی جان و مال کے تحفظ کے لیے پولیس نے ممنوعہ چائنیز مانجا کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے 191 بوبنز ضبط کر لیے، جن کی مالیت ₹1.91 لاکھ بتائی جا رہی ہے۔

حیدرآباد میں عوامی جان و مال کے تحفظ کے لیے پولیس نے ممنوعہ چائنیز مانجا کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے 191 بوبنز ضبط کر لیے، جن کی مالیت ₹1.91 لاکھ بتائی جا رہی ہے۔ یہ کارروائی کمشنر ٹاسک فورس (ساؤتھ زون ٹیم) نے 14 جنوری 2026 کو یاقوت پورہ کے علاقے میں انجام دی۔

پولیس کے مطابق، ملزمان کو مرتضیٰ چمن کے عقب میں، یاقوت پورہ میں ممنوعہ شیشے سے لیپت نائلون چائنیز مانجا فروخت کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا۔ یہ کارروائی رین بازار پولیس اسٹیشن کی حدود میں ہوئی۔

گرفتار ملزمان کی شناخت حسین آغا (37) ساکن یاقوت پورہ اور سید صدیق حسین جعفری (35) ساکن عیدی بازار کے طور پر کی گئی ہے، جو زوماٹو ڈیلیوری بوائے کے طور پر کام کرتا تھا۔ اس کیس میں رمضان نامی ایک شخص، جو ممبئی کا رہائشی بتایا جا رہا ہے اور مبینہ طور پر مانجا کی سپلائی کرتا تھا، تاحال مفرور ہے۔

پولیس نے بتایا کہ ضبط شدہ سامان میں مونو گولڈ کے نام سے فروخت ہونے والے 191 بوبنز شامل ہیں۔ تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ ملزمان ہر بوبن ₹1,000 میں فروخت کر کے غیر قانونی منافع کما رہے تھے۔ حسین آغا اپنے والد کے کاروبار کو سنبھالتا تھا جبکہ صدیق حسین اس کے تحت کام کرتا تھا۔

واضح رہے کہ تلنگانہ حکومت نے انسانی جانوں اور پرندوں کے تحفظ کے پیش نظر چائنیز مانجا (نائلون دھاگہ) کی خرید، ذخیرہ، فروخت اور استعمال پر جنوری 2016 میں مکمل پابندی عائد کی تھی۔ یہ پابندی ماحولیات (تحفظ) ایکٹ 1986 کی دفعہ 5 کے تحت نافذ ہے، جس کی خلاف ورزی پر پانچ سال تک قید یا ₹1 لاکھ تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

گرفتار ملزمان کو ضبط شدہ سامان کے ساتھ مزید قانونی کارروائی کے لیے رین بازار پولیس اسٹیشن کے حوالے کر دیا گیا ہے، جبکہ مفرور ملزم کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ پولیس حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ممنوعہ مانجا کی فروخت یا استعمال کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دیں تاکہ مزید حادثات سے بچا جا سکے۔