مجلس کی نئی حکمت عملی
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) آندھرا پردیش میں اپنی سیاسی بنیاد مضبوط کرنے کے لیے پہلی بار منظم انداز میں کوشش کر رہی ہے۔ یکم نومبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں پارٹی نے 7 شہری بلدیاتی اداروں میں اپنے امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) آندھرا پردیش میں اپنی سیاسی بنیاد مضبوط کرنے کے لیے پہلی بار منظم انداز میں کوشش کر رہی ہے۔ یکم نومبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں پارٹی نے 7 شہری بلدیاتی اداروں میں اپنے امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔ پارٹی کی نظریں کڑپہ میئر اور ہندپور میونسپلٹی کے چیئرپرسن کے عہدوں پر بھی مرکوز ہیں۔
حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی کی قیادت میں پارٹی نے انتخابی مہم کو مضبوط بنانے کے لیے تلنگانہ کے 6 ارکان اسمبلی، ایک رکن قانون ساز کونسل اور تین ریاستوں کے سینئر قائدین کو میدان میں اتارا ہے۔ پارٹی ان انتخابات کو اس بات کے امتحان کے طور پر دیکھ رہی ہے کہ آیا وہ تلنگانہ سے باہر بھی اپنی سیاسی طاقت بڑھا سکتی ہے یا نہیں۔
اے آئی ایم آئی ایم کے آندھرا پردیش انچارج سماد بن عبداد کے مطابق، پارٹی نے ابتدا میں 31 امیدواروں کے پرچہ نامزدگی داخل کیے تھے، لیکن بعد میں یہ تعداد کم کرکے 20 کردی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی نے ان ہی علاقوں پر توجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے جہاں کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں۔
پارٹی نے کڑپہ میئر کے عہدے کے لیے شیخ نسیم بانو کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔ اس کے علاوہ ادونی کے 7، ہندپور کے 4، وجئے واڑہ کے 3، نندیال اور پینوکونڈہ کے ایک ایک وارڈ سمیت رایا درگ میں بھی پارٹی کے امیدوار میدان میں ہیں۔ پارٹی کے 20 امیدواروں میں 6 خواتین شامل ہیں۔
واضح رہے کہ اے آئی ایم آئی ایم اس سے پہلے ہندپور میں ایک اور ادونی میں دو وارڈوں پر کامیابی حاصل کرچکی ہے۔ پارٹی قائدین کا کہنا ہے کہ ان انتخابات کے نتائج سے اندازہ ہوگا کہ گزشتہ انتخابات کے بعد پارٹی نے ان علاقوں میں کتنی سیاسی پیش رفت کی ہے۔
انتخابی مہم کی ذمہ داری آندھرا پردیش انچارج سماد بن عبداد سنبھال رہے ہیں، جبکہ سینئر قائدین کو مختلف شہروں اور وارڈوں کی ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔ بہادرپورہ کے رکن اسمبلی محمد مبین کڑپہ میں پارٹی کے میئر امیدوار کی کامیابی کے لیے مہم چلا رہے ہیں، جبکہ ملک پیٹ کے رکن اسمبلی احمد بن عبداللہ بلعلہ ادونی میں انتخابی مہم کی نگرانی کر رہے ہیں۔
نامپلی کے رکن اسمبلی ماجد حسین اننت پور، پینوکونڈہ اور ہندپور میں مہم چلانے کے بعد وجئے واڑہ پہنچے ہیں۔ اسی طرح یاقوت پورہ کے رکن اسمبلی جعفر حسین میراج نے نندیال، پینوکونڈہ اور ہندپور کا دورہ کرکے پارٹی امیدواروں کے حق میں مہم چلائی ہے۔ رکن قانون ساز کونسل ریاض الحسن افندی بھی انتخابی مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ مہاراشٹر اور آندھرا پردیش کے پارٹی قائدین بھی مختلف علاقوں میں مہم چلا رہے ہیں۔
پارٹی قیادت کا مقصد صرف ان انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا نہیں، بلکہ کڑپہ، وجئے واڑہ، نندیال، اننت پور اور ہندپور جیسے شہروں میں مستقل سیاسی بنیاد قائم کرنا بھی ہے۔ اسی حکمت عملی کے تحت پارٹی قائدین نے مدن پلی جیسے شہروں کا بھی دورہ کیا ہے، جہاں پارٹی نے کوئی امیدوار نہیں اتارا۔ قائدین کے مطابق، ان دوروں کا مقصد مستقبل کے انتخابات سے پہلے پارٹی کی موجودگی اور شناخت کو مضبوط بنانا ہے۔
پارٹی کے ایک سینئر قائد نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کے نتائج کی بنیاد پر آندھرا پردیش میں آئندہ اسمبلی انتخابات کے لیے پارٹی کی حکمت عملی تیار کی جائے گی۔
آندھرا پردیش میں یکم نومبر کو 13 میونسپل کارپوریشنوں اور 87 میونسپلٹیوں و نگر پنچایتوں کے لیے رائے دہی ہوگی، جبکہ ووٹوں کی گنتی 3 نومبر کو کی جائے گی۔ یہ انتخابات پہلے 28 اکتوبر کو ہونے والے تھے، لیکن پرچہ نامزدگی کے عمل سے متعلق شکایات پر سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد انتخابی پروگرام میں تبدیلی کی گئی۔
ان انتخابات میں اے آئی ایم آئی ایم کا مقابلہ حکمراں تلگو دیشم پارٹی، جنا سینا اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے اتحاد، اپوزیشن جماعت وائی ایس آر کانگریس پارٹی اور کانگریس سے ہے۔
آندھرا پردیش کے یہ بلدیاتی انتخابات اے آئی ایم آئی ایم کے لیے خاص اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ ان کے نتائج سے واضح ہوگا کہ پارٹی تلنگانہ سے باہر اپنی سیاسی سرگرمیوں کو کس حد تک وسعت دے پاتی ہے۔