تلنگانہ

فنڈز کی کمی سے سرکاری اسکولوں میں مڈ ڈے میل اسکیم متاثر

ریاست کے سرکاری اسکولوں میں مڈ ڈے میل اسکیم کے تحت طلبہ کو فراہم کیے جانے والے کھانے کا معیار اور مقدار مبینہ طور پر فنڈز کی کمی کے باعث متاثر ہو رہی ہے۔ والدین نے شکایت کی ہے کہ بجٹ کی ناکافی فراہمی کے سبب بچوں کو مقررہ مینو کے مطابق کھانا نہیں دیا جا رہا ہے۔

حیدرآباد: ریاست کے سرکاری اسکولوں میں مڈ ڈے میل اسکیم کے تحت طلبہ کو فراہم کیے جانے والے کھانے کا معیار اور مقدار مبینہ طور پر فنڈز کی کمی کے باعث متاثر ہو رہی ہے۔ والدین نے شکایت کی ہے کہ بجٹ کی ناکافی فراہمی کے سبب بچوں کو مقررہ مینو کے مطابق کھانا نہیں دیا جا رہا ہے۔

والدین کے مطابق ریاست کے تقریباً 25 ہزار سرکاری اسکولوں میں دو سبزیوں کے پکوان فراہم کرنے کے بجائے صرف ایک سبزی دی جا رہی ہے۔

طلبہ کا کہنا ہے کہ ہفتے میں تین مرتبہ دیے جانے والے انڈے بھی بعض اسکولوں میں صرف ایک مرتبہ فراہم کیے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب، کھانا تیار کرنے والے عملے کا کہنا ہے کہ بازار میں ایک انڈے کی قیمت 7 سے 8 روپے ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے صرف 6 روپے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مقررہ شیڈول کے مطابق ہفتے میں تین مرتبہ انڈے فراہم کرنے سے انہیں مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

والدین نے تشویش ظاہر کی ہے کہ فنڈز کی کمی سے بچوں کو ملنے والی غذائی سہولتیں متاثر ہو رہی ہیں، خصوصاً ان طلبہ کو مشکلات کا سامنا ہے جو غذائیت کے لیے اسکول کے کھانے پر انحصار کرتے ہیں۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مڈ ڈے میل اسکیم کے لیے مختص رقم میں اضافہ کیا جائے اور مقررہ مینو کے مطابق طلبہ کو معیاری اور غذائیت سے بھرپور کھانا فراہم کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔

اس مسئلہ نے اسکیم پر عمل آوری اور نگرانی کے نظام پر بھی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ والدین نے متعلقہ حکام سے فوری مداخلت کرتے ہوئے طلبہ کو ان کے مقررہ غذائی حقوق فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔