امریکہ نے ایران پر دوبارہ حملہ کیا تو وسیع تر علاقائی ردعمل سامنے آئے گا: مجتبیٰ خامنہ ای
ایران کے قومی دن 'عالمی استکبار کے خلاف جدوجہد' کے موقع پر جاری تحریری پیغام میں خامنہ ای نے کہا کہ نہ تو امریکی قیادت میں تبدیلی اور نہ ہی ایران کی جانب سے کسی قسم کی رعایت واشنگٹن کو ایران کے خلاف دشمنانہ رویہ ترک کرنے پر آمادہ کر سکتی ہے۔ یہ دن 4 نومبر کو 1979 میں تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔
تہران: ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے بدھ کو خبردار کیا کہ امریکہ نے ایران پر دوبارہ فوجی حملہ کیا تو اس کا ردعمل پورے خطے میں کہیں زیادہ وسیع ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں سیاسی تبدیلیوں کے بعد واشنگٹن کی پالیسی بدلنے کی امید رکھنے والے سخت غلط فہمی میں ہیں۔
ایران کے قومی دن ‘عالمی استکبار کے خلاف جدوجہد’ کے موقع پر جاری تحریری پیغام میں خامنہ ای نے کہا کہ نہ تو امریکی قیادت میں تبدیلی اور نہ ہی ایران کی جانب سے کسی قسم کی رعایت واشنگٹن کو ایران کے خلاف دشمنانہ رویہ ترک کرنے پر آمادہ کر سکتی ہے۔ یہ دن 4 نومبر کو 1979 میں تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی وسط مدتی انتخابات میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو نقصان اٹھانا پڑا اور ڈیموکریٹس نے کانگریس میں اکثریت حاصل کرلی۔
خامنہ ای نے کہا کہ واشنگٹن کا اصل مقصد ایرانی عوام کو غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ کے سامنے معمولی جھکاؤ یا رعایت بھی اسے مزید مطالبات اور فوجی جارحیت کی حوصلہ افزائی کرے گی۔
آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول اور خطے میں امریکی فوجی اڈوں کی تباہی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے ان اقدامات کو امریکی جارحیت کا جواب اور خطے میں امریکی اثرورسوخ کے خلاف وسیع تر مزاحمت کا حصہ قرار دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسی جارحیت دوبارہ ہوئی تو اس کا دائرہ پہلے سے کہیں زیادہ وسیع ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر نے دعویٰ کیا کہ خلیج فارس کی صورت حال نے امریکہ کی ناقابلِ تسخیر ہونے کے تصور کو غلط ثابت کردیا ہے اور بیرونی طاقتوں پر اپنی سلامتی کے لیے انحصار کرنے والی حکومتوں کی کمزوری عیاں کردی ہے۔ انہوں نے امریکی فوجی اور عالمی اثرورسوخ کو ناقابلِ تلافی زوال سے دوچار قرار دیتے ہوئے کہا کہ مغربی ایشیا کی تبدیلیاں اور علاقائی مزاحمتی تحریکوں کی سرگرمیاں ایک نئے عالمی نظام کے ظہور کا اشارہ ہیں۔
خامنہ ای نے کہا کہ مکمل دفاعی صلاحیت اور دشمن کو حملے سے باز رکھنے کے لیے ‘ایران، پہلے سے زیادہ مضبوط’ کی حکمت عملی پر عمل جاری رکھنا ہوگا۔ قومی اتحاد، یکجہتی اور سماجی ہم آہنگی کو ملک کی مضبوطی کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے انہوں نے حکام سے عوامی فلاح، روزگار اور اقتصادی ترقی کو ترجیح دینے کی اپیل کی۔ انہوں نے نوجوانوں، طلبہ اور اسکول کے بچوں پر بھی زور دیا کہ وہ علم، مہارت اور عزم کے ذریعے ملک کے مستقبل کی تعمیر میں حصہ لیں۔
انہوں نے امریکہ پر ایران کو تقسیم کرنے، اس کے سیاسی نظام کو ختم کرنے اور ایرانی تہذیب کو تباہ کرنے کی کوششوں کا الزام لگایا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے 1953 میں وزیر اعظم محمد مصدق کی حکومت کا تختہ الٹنے کو ایران میں امریکی مداخلت کا نقطۂ آغاز قرار دیا۔ ان کے مطابق امریکہ نے بعد ازاں 1980 سے 1988 کی ایران۔عراق جنگ میں صدام حسین کی حمایت کی، ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کیں اور اسلامی جمہوریہ کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں کی پشت پناہی کی۔
انہوں نے جنوری 2020 میں بغداد میں امریکی ڈرون حملے کے ذریعے پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل اور بعد کے تصادم میں ایرانی فوجی کمانڈروں اور سائنس دانوں کی ہلاکتوں کا بھی حوالہ دیا۔
دریں اثنا، ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ کے مشیر محمد مقدم فر نے خبردار کیا کہ اگر ایرانی قیادت کو نشانہ بنایا گیا تو تہران اعلیٰ امریکی فوجی اور سیاسی شخصیات کو نشانہ بنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا جواب اب نہ تو محض جوابی کارروائی تک محدود ہوگا اور نہ ہی حملے کے تناسب سے ہوگا، بلکہ امریکی اثاثوں کو کسی بھی وقت اور کسی بھی مقام پر نشانہ بنایا جائے گا۔
بندر عباس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے متحدہ عرب امارات اور بحرین سمیت خلیجی ممالک کو بھی خبردار کیا کہ اگر انہوں نے اپنی سرزمین ایران پر حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی تو انہیں ایران کے وسیع تر ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔