کاماریڈی ضلع کے بانسواڑہ میں معمولی تنازعہ فرقہ وارانہ کشیدگی میں تبدیل، صورتحال قابو میں
تلنگانہ کے ضلع کاماریڈی کے بانسواڑہ میں ایک معمولی بات پر شروع ہونے والا تنازعہ فرقہ وارانہ کشیدگی میں تبدیل ہو گیا۔ اطلاعات کے مطابق، ایک شاپنگ مال میں موسیقی بجانے کے معاملے پر ایک نوجوان کی جانب سے اعتراض کیا گیا، جس کے بعد حالات کشیدہ ہوئے اور بات بڑھتے بڑھتے دو گروہوں کے درمیان تصادم تک جا پہنچی۔
تلنگانہ کے ضلع کاماریڈی کے بانسواڑہ میں ایک معمولی بات پر شروع ہونے والا تنازعہ فرقہ وارانہ کشیدگی میں تبدیل ہو گیا۔ اطلاعات کے مطابق، ایک شاپنگ مال میں موسیقی بجانے کے معاملے پر ایک نوجوان کی جانب سے اعتراض کیا گیا، جس کے بعد حالات کشیدہ ہوئے اور بات بڑھتے بڑھتے دو گروہوں کے درمیان تصادم تک جا پہنچی۔
صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچی اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے دونوں فریقین کو منتشر کیا۔ تاہم واقعے کے بعد بڑی تعداد میں افراد پولیس اسٹیشن کے اطراف جمع ہو گئے، جس سے علاقے میں تناؤ کی کیفیت دیکھی گئی۔
کشیدگی کے دوران قصبے میں چند چھوٹی دکانوں کو نقصان پہنچنے کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے انتظامیہ نے اضافی پولیس فورس تعینات کر دی ہے اور علاقے میں سخت نگرانی جاری ہے۔ پولیس اور انتظامی حکام کے مطابق فی الحال صورتحال قابو میں ہے۔
دوسری جانب، دو روز قبل حیدرآباد کے علاقے عنبرپیٹ میں واقع جامعہ مسجد عنبرپیٹ کے قریب اُس وقت ماحول خراب کرنے کی کوشش کی گئی تھی جب مسجد میں تراویح کی نماز ادا کی جا رہی تھی۔
اطلاعات کے مطابق، شیواجی جینتی کے موقع پر نکالے گئے ایک جلوس کے دوران چند شرپسند عناصر مسجد کے قریب پہنچے تھے اور نازیبا نعرے بازی کی تھی۔ بتایا گیا کہ بلند آواز میں اشتعال انگیز گانے بھی چلائے گئے تھے، جس کا مقصد نمازیوں کی توجہ بٹانا اور علاقے میں تناؤ پیدا کرنا تھا۔
اُس وقت مسجد میں چار سے پانچ ہزار کے قریب نمازی موجود تھے۔ مسجد کمیٹی نے بروقت ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے نمازیوں سے امن اور صبر برقرار رکھنے کی اپیل کی تھی، جس پر مسلم برادری نے مکمل تحمل کا مظاہرہ کیا اور کسی بھی قسم کے اشتعال کا جواب نہیں دیا تھا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی تھی اور ماحول خراب کرنے کی کوشش کرنے والوں کو وہاں سے منتشر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کی فوری کارروائی کے باعث حالات قابو میں رہے تھے اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا تھا۔
مسجد کمیٹی کے مطابق تراویح کی نماز پُرامن طور پر مکمل ہوئی تھی اور علاقے میں امن و امان برقرار رہا تھا۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ ماہِ رمضان کے دوران ایسے واقعات تشویش کا باعث بنتے ہیں، اور انتظامیہ کو چاہئے کہ امن و امان میں خلل ڈالنے والے شرپسند عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرے تاکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھا جا سکے۔