مشرق وسطیٰ

یمن سے اسرائیل کی جانب میزائل داغا گیا، جنگ میں نئے محاذ کا خدشہ

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر حوثی اس جنگ میں عملی طور پر شامل ہو جاتے ہیں تو اس سے تصادم کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے، کیونکہ یمن سے میزائل حملے کرنے اور بحیرہ احمر و جزیرہ نما عرب کے اطراف جہاز رانی کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

تل ابیب: اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ یمن سے داغے گئے ایک میزائل کی نشاندہی کی گئی ہے، جو ایران کے ساتھ جاری جنگ کے آغاز کے بعد اس نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔

متعلقہ خبریں
روسی صدر کی مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے خاتمے میں مدد کی پیشکش
بے لگام اسرائیل دنیا کو اپنی جاگیر سمجھتا ہے:شاہ اُردن
اسرائیل میں یرغمالیوں کی رہائی کیلئے 7 لاکھ افراد کا احتجاجی مظاہرہ


اسرائیلی فوج کے مطابق میزائل یمن سے داغا گیا تھا اور اس کی نشاندہی دفاعی نظام کے ذریعے کی گئی۔


دوسری جانب ایران سے منسلک حوثی باغیوں نے جمعے کے روز کہا تھا کہ اگر ایران اور "محورِ مزاحمت” کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں تو وہ بھی ردعمل دینے کے لیے تیار ہیں، تاہم انہوں نے اس کی نوعیت واضح نہیں کی تھی۔


میزائل حملہ حوثیوں کے اس بیان کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔


تجزیہ کاروں کے مطابق اگر حوثی اس جنگ میں عملی طور پر شامل ہو جاتے ہیں تو اس سے تصادم کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے، کیونکہ یمن سے میزائل حملے کرنے اور بحیرہ احمر و جزیرہ نما عرب کے اطراف جہاز رانی کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔


یاد رہے کہ حوثی باغیوں نے غزہ میں حماس کی حمایت میں 7 اکتوبر 2023 کے بعد بحری جہازوں پر متعدد حملے کیے تھے۔
دوسری جانب لبنان اور عراق میں ایران کے اتحادی گروہ پہلے ہی اس جنگ میں شامل ہو چکے ہیں، جو تقریباً چار ہفتے قبل تہران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی۔