جسٹس سوریہ کانت کے خلاف مہم چلانے والے طلبہ کی انکوائری پر NALSAR کا دوٹوک جواب، فیصلہ یونیورسٹی خود کرے گی
سپریم کورٹ کے جج جسٹس سوریہ کانت کے خلاف مبینہ طور پر مہم چلانے والے طلبہ کے معاملے میں نیشنل اکیڈمی آف لیگل اسٹڈیز اینڈ ریسرچ (NALSAR) یونیورسٹی نے بار کونسل آف انڈیا (BCI) کو واضح جواب دیا ہے کہ طلبہ کے خلاف انکوائری کرنی ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ یونیورسٹی خود کرے گی۔
حیدرآباد: سپریم کورٹ کے جج جسٹس سوریہ کانت کے خلاف مبینہ طور پر مہم چلانے والے طلبہ کے معاملے میں نیشنل اکیڈمی آف لیگل اسٹڈیز اینڈ ریسرچ (NALSAR) یونیورسٹی نے بار کونسل آف انڈیا (BCI) کو واضح جواب دیا ہے کہ طلبہ کے خلاف انکوائری کرنی ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ یونیورسٹی خود کرے گی۔
اطلاعات کے مطابق بار کونسل آف انڈیا نے NALSAR یونیورسٹی انتظامیہ کو ہدایت دی تھی کہ جسٹس سوریہ کانت کے خلاف مہم چلانے والے طلبہ کے معاملے کی انکوائری کی جائے۔
تاہم یونیورسٹی انتظامیہ نے BCI کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے خلاف انکوائری شروع کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ یونیورسٹی کا اپنا اختیار ہے۔ انتظامیہ نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے میں یونیورسٹی کے قواعد و ضوابط کا جائزہ لینے کے بعد آئندہ کارروائی کے بارے میں فیصلہ کرے گی۔
یہ معاملہ اس لیے بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ اس میں ملک کی ایک معروف قومی لاء یونیورسٹی کے طلبہ اور سپریم کورٹ کے ایک موجودہ جج کے خلاف مبینہ مہم کا معاملہ شامل ہے۔
یونیورسٹی کے موقف کے مطابق طلبہ کے خلاف کسی بھی تادیبی یا دیگر کارروائی کا فیصلہ ادارے کے مقررہ قواعد اور طریقہ کار کے مطابق کیا جائے گا۔
اس پیش رفت کے بعد بار کونسل آف انڈیا اور قومی لاء یونیورسٹیوں کے اختیارات، بالخصوص طلبہ کے طرز عمل اور تادیبی کارروائی کے معاملات میں ادارہ جاتی خودمختاری سے متعلق سوالات بھی سامنے آئے ہیں۔
NALSAR انتظامیہ اب اپنے متعلقہ قواعد و ضوابط کا جائزہ لے گی، جس کے بعد یہ طے کیا جائے گا کہ طلبہ کے خلاف انکوائری کی ضرورت ہے یا نہیں۔