حیدرآباد

نامپلی آتشزدگی: نفرت کے شور میں انسانیت کی گونج، محمد امتیاز اور سید حبیب کی عظیم قربانی

حیدرآباد کے علاقے نامپلی میں پیش آنے والے المناک آتشزدگی کے واقعے نے جہاں شہر کو غم میں ڈبو دیا، وہیں انسانیت کی ایک ایسی مثال بھی سامنے آئی جس نے نفرت اور اشتعال کے ماحول میں امید کی شمع روشن کر دی۔

حیدرآباد کے علاقے نامپلی میں پیش آنے والے المناک آتشزدگی کے واقعے نے جہاں شہر کو غم میں ڈبو دیا، وہیں انسانیت کی ایک ایسی مثال بھی سامنے آئی جس نے نفرت اور اشتعال کے ماحول میں امید کی شمع روشن کر دی۔ ایک طرف شہر کے بعض حصوں میں اشتعال انگیز نعروں کا شور تھا، تو دوسری طرف نامپلی میں آگ کے شعلوں کے بیچ دو مسلم نوجوانوں نے اپنی جان قربان کر کے انسانیت کو زندہ ثابت کر دیا۔

یہ افسوسناک واقعہ نامپلی اسٹیشن روڈ پر واقع ایک پانچ منزلہ عمارت میں پیش آیا، جہاں ایک فرنیچر کی دکان میں اچانک شدید آگ بھڑک اٹھی۔ اس حادثے میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس دکان میں تقریباً 22 افراد کام کرتے تھے۔ آگ اتنی شدید تھی کہ دیکھتے ہی دیکھتے زہریلا دھواں پوری عمارت میں پھیل گیا اور لوگ جان بچانے کے لیے باہر کی طرف دوڑ پڑے۔

اسی عمارت کے سیلر میں واچ مین یادیا اپنی اہلیہ لکشمی اور دو بچوں پرنیت اور اکھیل کے ساتھ رہتا تھا۔ ہفتہ کے روز دونوں بچے اسکول نہیں گئے تھے اور سیلر میں ہی موجود تھے۔ والدین نے بچوں سے کہا تھا کہ وہ وہیں کھیلتے رہیں اور خود کام پر چلے گئے۔ دوپہر کے قریب اچانک عمارت کے دونوں سیلروں میں آگ لگ گئی اور دھوئیں نے اندر پھنسے افراد کے لیے سانس لینا بھی مشکل بنا دیا۔

اسی دوران دکان میں کام کرنے والے محمد امتیاز اور سید حبیب کو معلوم ہوا کہ واچ مین کے بچے اور ایک خاتون سیلر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ بغیر کسی لمحے کی تاخیر کے، دونوں نوجوانوں نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر آگ اور دھوئیں سے بھری عمارت میں داخل ہو کر انہیں بچانے کی کوشش کی۔ تاہم، شدید دھوئیں اور آگ کی لپیٹ کے باعث وہ واپس باہر نہ آ سکے اور اپنی جان قربان کر دی۔

یہ وہ لمحہ تھا جب انسانیت نے مذہب، ذات اور شناخت کی تمام دیواروں کو توڑ دیا۔ اگر محمد امتیاز اور سید حبیب آگ میں داخل نہ بھی ہوتے تو کوئی ان سے سوال نہ کرتا، مگر ان کی انسانیت نے انہیں یہ گوارا نہ کیا کہ وہ ایک خاندان کے بچوں اور ایک خاتون کو موت کے منہ میں چھوڑ کر باہر کھڑے رہیں۔ انہوں نے اپنی جان دے دی، مگر انسانیت کا پرچم سر بلند رکھا۔

آگ اور گھنے دھوئیں کے باعث ریسکیو آپریشن میں شدید مشکلات پیش آئیں۔ امدادی کارروائیاں اتوار کی صبح تک جاری رہیں۔ فائر بریگیڈ، پولیس اور ریسکیو ٹیموں نے جے سی بی مشینوں کے ذریعے سیلر کی دیواروں میں سوراخ کر کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی، جس کے بعد لاشوں کو باہر نکالا جا سکا۔

نامپلی کا یہ واقعہ نہ صرف ایک دل دہلا دینے والا حادثہ ہے بلکہ اس بات کی روشن مثال بھی ہے کہ نفرت کے اس دور میں بھی انسانیت آج زندہ ہے۔ محمد امتیاز اور سید حبیب جیسے نوجوان آج بھی سماج کے لیے امید کی کرن ہیں، جن کی قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔