حیدرآباد

حمایت ساگر کے چھ دروازوں سے پانی کا اخراج، میٹرو واٹر بورڈ کی غفلت پر سوالات اٹھنے لگے

شہر حیدرآباد کے لیے پینے کے پانی کا ایک اہم ذریعہ حمایت ساگر ذخیرہ آب اس وقت شدید غفلت کا شکار ہے، اس کے کئی دروازوں سے پانی کا اخراج ہو رہا ہے۔

حیدرآباد: شہر حیدرآباد کے لیے پینے کے پانی کا ایک اہم ذریعہ حمایت ساگر ذخیرہ آب اس وقت شدید غفلت کا شکار ہے، اس کے کئی دروازوں سے پانی کا اخراج ہو رہا ہے۔ 17 دروازوں میں سے کم از کم 6 دروازے نمایاں طور پر لیک کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں قیمتی پانی ضائع ہو رہا ہے۔

متعلقہ خبریں
ملک میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے حملوں پر مسلم پرسنل لا بورڈ کا اظہارِ تشویش، ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان
گورنمنٹ ڈگری کالج فلک نما میں انا–اکّا مینٹورشپ انٹرن شپ تربیتی پروگرام کا آغاز
محرم الحرام 2026 کے انتظامات پر بی جے پی وفد کی کمشنر پولیس حیدرآباد سے ملاقات
جماعتِ اسلامی ہند گریٹر حیدرآباد ویمنز ونگ کے زیرِ اہتمام صحافیوں اور این جی اوز کا اجلاس
نعتیہ کلام دلوں کو محبتِ رسول ﷺ سے منور کرتا ہے: سعداللہ خان سبیل

ذرائع کے مطابق ہر سال لاکھوں روپے خرچ کرنے کے دعوے کیے جاتے ہیں تاکہ حمایت ساگر کی دیکھ بھال اور مرمت بروقت انجام دی جا سکے، لیکن زمینی صورتحال اس کے برعکس ہے۔ معمول کے مطابق ہر موسم گرما میں دروازوں کی مرمت اور سیلنگ کا کام سبز جننم (sealant) کی مدد سے کیا جاتا ہے تاکہ پانی کا اخراج روکا جا سکے۔ تاہم، اس سال ان اقدامات کے نفاذ کے شواہد نہ ہونے کے برابر ہیں۔

عوامی حلقوں میں اس صورتحال پر شدید تشویش پائی جارہی ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر تحقیقات کی جائیں اور غفلت کے مرتکب افسران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں جب شہر کو پانی کی قلت کا سامنا ہے، اس طرح کا ضیاع ناقابلِ قبول ہے۔

میٹرو واٹر بورڈ کے ٹیکنیکل ڈائریکٹر سُدَرشن نے اس معاملے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پانی کے اخراج کی تصدیق کی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ پرانے انفراسٹرکچر کی وجہ سے پیش آیا ہے، اور بہت جلد مرمت کا کام شروع کر دیا جائے گا۔ اُنہوں نے یقین دہانی کرائی کہ بورڈ کسی بھی ابھرتے مسئلے کو فوری طور پر حل کرنے کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔

حمایت ساگر چونکہ حیدرآباد کے لیے پینے کے پانی کا لازمی ذریعہ ہے، اس لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے تحفظ اور پائیدار انتظام کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات کی اشد ضرورت ہے، تاکہ مستقبل میں پانی کی فراہمی متاثر نہ ہو۔