شمالی بھارت

وقف ترمیمی بل کے خلاف ملک گیر احتجاج کا پٹنہ سے آغاز۔ لالو پرساد اور تیجسوی یادو بھی شامل (ویڈیوز)

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی) نے چہارشنبہ کے روز متنازعہ وقف (ترمیمی) بل 2024 کے خلاف ملک گیر احتجاج کا پٹنہ کے گردنی باغ دھرنا استھل سے آغاز کیا۔ آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو اور سابق ڈپٹی چیف منسٹر تیجسوی یادو احتجاج میں شامل ہوئے۔

پٹنہ (آئی اے این ایس) آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی) نے چہارشنبہ کے روز متنازعہ وقف (ترمیمی) بل 2024 کے خلاف ملک گیر احتجاج کا پٹنہ کے گردنی باغ دھرنا استھل سے آغاز کیا۔ آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو اور سابق ڈپٹی چیف منسٹر تیجسوی یادو احتجاج میں شامل ہوئے۔

مسلم تنظیموں اور برادری کے قائدین نے بہار کی تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس بل کی مخالفت کریں۔ لالو پرساد اور ان کی پارٹی کے ارکان کے سرگرمی کے ساتھ حصہ لینے سے اس تحریک نے قابل لحاظ رفتار پکڑلی ہے۔ اے آئی ایم پی آئی بی کے ترجمان سید قاسم رسول الیاس نے مرکزی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ فرقہ وارانہ عزائم کے ساتھ اس بل کو آگے بڑھارہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ یہ بل وقف جائیدادوں کو ضبط کرنے کی ایک سازش ہے۔ یہ گمراہ کرنے اور اقلیتوں کے اثاثوں پر قبضہ کرنے کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ سیاست نہیں کررہا ہے۔ ہم برادری کے حقوق کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ ترجمان نے سیاسی قائدین سے جو سیکولرازم کی وکالت کررہے ہیں‘ درخواست کی کہ وہ اس بل پر ٹھوس موقف اختیار کریں۔

یہ احتجاج اتفاقاً بہار قانون ساز اسمبلی میں افراتفری کے دن کیا گیا جہاں اپوزیشن جماعتوں نے نعرہ بازی کی اور وقف ترمیمی بل کی مخالفت میں قرارداد پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔ سی پی آئی ایم ایل کے رکن اسمبلی محبوب عالم نے مرکزی حکومت پر کڑی تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ وہ وقف جائیدادوں کے حقوق چھیننے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت ِ بہار اس بجٹ سیشن میں بل کے خلاف متحدہ قرارداد منظور کرے اور مرکز کو اس سے واقف کرائے۔

اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو ہم اپنا احتجاج جاری رکھیں گے اور ایوان کی کارروائی چلنے نہیں دیں گے۔ اب تمام نگاہیں چیف منسٹر بہار نتیش کمار پر مرکوز ہیں جنہوں نے اپنے اتحادوں کے باوجود اپنی سیکولر شبیہ کو برقرار رکھا ہے۔ اقلیتوں کو توقع ہے کہ وہ ان کی تحریک میں شامل ہوں گے یا کم ازکم بل کی مخالفت میں بیان جاری کریں گے۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ اس مسئلہ پر چیف منسٹر نتیش کمار کا موقف 2025 بہار اسمبلی انتخابات پر اثرانداز ہوسکتا ہے جہاں اقلیتی ووٹس اہم ثابت ہوسکتے ہیں۔ وقف ترمیمی بل کے کھلے مخالف لالوپرساد نے اقلیتوں کے لئے اپنی تائید کا اعادہ کیا ہے۔ ملک بھر کے مولانا اور علماء ان کے ساتھ شامل ہوگئے ہیں جو اپنی مخالفت کا اظہار کرنے احتجاج کے مقام پر جمع ہوئے تھے۔

اپوزیشن نے یہ بھی الزام لگایا کہ حکمراں جماعت متنازعہ بل کو سامنے لاتے ہوئے ریاست کے اہم مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کررہی ہے۔ ایک ایسے وقت جب بہار اسمبلی کا اجلاس جاری ہے‘ ایوان کے اندر اور باہر احتجاج میں شدت پیدا ہونے کی توقع ہے۔

اقلیتی برادری اور اپوزیشن قائدین نے عہد کیا ہے کہ اس تحریک کو اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک کہ مرکزی حکومت وقف ترمیمی بل پر دوبارہ غور نہیں کرتی۔ علیحدہ اطلاع کے بموجب لالو پرساد یادو اور تیجسوی یادو احتجاج میں شامل ہوئے۔ تیجسوی نے گردنی باغ میں مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کی اس لڑائی میں ہم آپ کے ساتھ پوری طاقت سے کھڑے ہیں۔

لالو پرساد اپنی بیماری کی حالت میں بھی آپ کی تائید کے لئے یہاں آئے ہیں۔ انہوں نے مرکزی حکومت پر الزّام عائد کیا کہ وہ ملک کو توڑنے اور جمہوریت کو ختم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے اسے دستورکے تانے بانے پر ہی حملہ قراردیا۔ تیجسوی نے کہا کہ دستور کو ختم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ ہم وہ لوگ ہیں جو دستوراور گنگاجمنی تہذیب میں یقین رکھتے ہیں۔ ہم بہرقیمت اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ یہ بل منظور نہ ہو۔