نوافل اور ذکر الہٰی نفسیاتی امراض کا بہترین علاج، ”انسانی نفسیات کی گرہیں“ کی رسم اجرا سے ڈاکٹرس کا خطاب
جناب انوار الہدیٰ نے کہا کہ ایمان کی کمزوری انسان کو احساسِ کمتری اور ذہنی تناؤ میں مبتلا کر دیتی ہے۔ انہوں نے کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ غیر ضروری توہمات اور منفی سوچ انسان کی شخصیت کو متاثر کرتے ہیں، اس لیے خود اعتمادی اور مثبت طرزِ فکر اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
حیدرآباد: ممتاز ماہرِ نفسیات ڈاکٹر محمد قطب الدین ابو شجاع کے انٹرویوز پر مشتمل کتاب ”انسانی نفسیات کی گرہیں“ کی رسمِ اجرا میڈیا پلس آڈیٹوریم، گن فاؤنڈری میں منعقد ہوئی۔ اس موقع پر سابق ڈی جی پی جناب سید انوار الہدیٰ (آئی پی ایس) نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کرتے ہوئے کہا کہ دلوں کا حقیقی سکون اللہ کے ذکر میں ہے اور مصیبت کے وقت دو رکعت نفل نماز انسان کو ذہنی اضطراب سے نجات دلا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کے جدید دور میں، خصوصاً مغربی معاشروں میں، سہولتوں کی فراوانی کے باوجود لوگ نفسیاتی امراض کا شکار ہیں۔ سوشل میڈیا پر ہزاروں فالوورز ہونے کے باوجود انسان تنہائی اور بے اطمینانی محسوس کرتا ہے۔ انہوں نے کووِڈ کے دنوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس مشکل دور نے انسانی رشتوں کی حقیقت کو بے نقاب کر دیا، جب متاثرین کے ساتھ کھڑے ہونے والے افراد بھی کم نظر آئے۔
جناب انوار الہدیٰ نے کہا کہ ایمان کی کمزوری انسان کو احساسِ کمتری اور ذہنی تناؤ میں مبتلا کر دیتی ہے۔ انہوں نے کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ غیر ضروری توہمات اور منفی سوچ انسان کی شخصیت کو متاثر کرتے ہیں، اس لیے خود اعتمادی اور مثبت طرزِ فکر اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
کتاب کے مصنف ڈاکٹر محمد قطب الدین ابو شجاع نے اپنے خطاب میں کہا کہ نفسیاتی امراض سے بچاؤ کے لیے اسلامی تعلیمات پر عمل، محبت بانٹنے کا جذبہ اور سادہ طرزِ زندگی اختیار کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کم کھانا، تحمل مزاجی اور سلام میں پہل کرنا معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہے۔ ان کے مطابق دل کی سادگی اور ذہن کی طمانیت روحانی ارتقا کی بنیاد ہے۔
ڈاکٹر قطب الدین نے عالمی باکسر محمد علی کے ساتھ اپنے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انسانیت سے محبت اور سیرتِ نبویؐ سے آگاہی نے ان کی زندگی میں مثبت تبدیلی پیدا کی۔ انہوں نے کہا کہ غیر ضروری مشغولیات اور منفی خیالات سے دور رہ کر دوسروں کے دکھ درد کو سمجھنا ذہنی سکون کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مختلف مقررین نے کہا کہ موجودہ دور میں ذہنی تناؤ ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے، جو بعض اوقات جسمانی بیماریوں کا سبب بھی بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریٹائرمنٹ یا تنہائی کے بعد افراد کو خصوصی توجہ اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ ذہنی دباؤ کا شکار نہ ہوں۔
مقررین نے اس کتاب کو موجودہ حالات میں ایک اہم فکری سرمایہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف نفسیاتی مسائل کی نشاندہی کرتی ہے بلکہ مثبت طرزِ زندگی کی رہنمائی بھی فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اس کتاب کا مطالعہ کریں اور اسے اپنے اہلِ خانہ کو تحفے کے طور پر پیش کریں تاکہ معاشرے میں ذہنی سکون اور باہمی محبت کو فروغ دیا جا سکے۔
تقریب میں شہر کی مختلف علمی، سماجی اور صحافتی شخصیات کے علاوہ معززین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔