نیتن یاہو کا حضرت عیسیٰؑ سے متعلق بیان متنازع، مسلمانوں اور مسیحیوں میں غم و غصہ ویڈیو وائرل
مسلم دنیا سے بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، جہاں حضرت عیسیٰؑ کو ایک جلیل القدر پیغمبر کے طور پر انتہائی احترام حاصل ہے۔ متعدد اسلامی ممالک اور تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس بیان کی وضاحت کی جائے اور مذہبی شخصیات کے احترام کو یقینی بنایا جائے
اسرائیلی : وزیرِاعظم نیتن یاہو کے ایک مبینہ بیان نے عالمی سطح پر شدید تنازع کھڑا کر دیا ہے، جس میں حضرت عیسیٰؑ کے حوالے سے چنگیز خان سے موازنہ کیے جانے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ اس بیان کے منظر عام پر آنے کے بعد مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد اور مذہبی رہنماؤں نے سخت ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔
مسیحی برادری نے اس بیان کو انتہائی توہین آمیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ Jesus Christ محبت، امن اور رواداری کی علامت ہیں، اور ان کا موازنہ ایک تاریخی فاتح Genghis Khan سے کرنا ناقابلِ قبول ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس قسم کے بیانات مذہبی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتے ہیں اور عالمی سطح پر کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں۔
دوسری جانب مسلم دنیا سے بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، جہاں حضرت عیسیٰؑ کو ایک جلیل القدر پیغمبر کے طور پر انتہائی احترام حاصل ہے۔ متعدد اسلامی ممالک اور تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس بیان کی وضاحت کی جائے اور مذہبی شخصیات کے احترام کو یقینی بنایا جائے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کے حساس بیانات نہ صرف بین المذاہب تعلقات کو متاثر کرتے ہیں بلکہ سیاسی سطح پر بھی تناؤ کا باعث بن سکتے ہیں۔ عالمی برادری پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ مذہبی اقدار کے احترام کو فروغ دے اور نفرت انگیز یا اشتعال انگیز بیانات کی حوصلہ شکنی کرے۔
واضح رہے کہ ایسے بیانات ماضی میں بھی شدید ردِعمل کا سبب بنتے رہے ہیں، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی امن و استحکام کے لیے مذہبی شخصیات کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کرنا ناگزیر ہے۔