تلنگانہ

نرمل اربن منڈل ایجوکیشن آفیسر ناگیشور راؤ برخاست، اردو میڈیم اسکول کے طلبہ منتقلی معاملہ میں بڑی کارروائی

ادھر معاملہ کی سنگینی کے پیش نظر مذکورہ تنظیموں نے ریاستی حقوق کمیشن میں بھی عرضی داخل کی، جبکہ ریاستی انسانی حقوق کمیشن نے اردو اور انگریزی اخبارات میں شائع شدہ خبروں کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے وضاحت طلب کی ہے۔

حیدرآباد: گورنمنٹ پرائمری اسکول اردو میڈیم پنجہ شاہ، نرمل کے 20 طلبہ کو مبینہ طور پر راتوں رات ڈراپ باکس میں منتقل کر کے اسکول کو غیر فعال (بند) قرار دینے کے سنگین معاملہ میں محکمہ تعلیم نے بڑی کارروائی کی ہے۔ اس سلسلہ میں ریجنل جوائنٹ ڈائریکٹر، ورنگل نے نرمل اربن منڈل ایجوکیشن آفیسر ناگیشور راؤ کو عہدہ سے ہٹا دیا ہے۔

متعلقہ خبریں
کشمیر اسمبلی میں 5 ارکان کی نامزدگی سپریم کورٹ کا سماعت سے انکار
رمضان المبارک کے پہلے عشرہ کا اختتام روحانی تزک و احتشام کے ساتھ تکمیل،مولانامفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب
بوہرہ کمیونٹی میں ہر گھر میں حافظ قرآن بنانے کا ہدف اور معاشرہ ، تعلیم و صحت پر توجہ،ڈاکٹر الیاس نجمی
عیدالفطر سےقبل بی جے پی کامودی کٹس کاوزیرگجیندر سنگھ شیخاوت کےہاتھوں پوسٹر جاری۔
گورنمنٹ جونیئر کالج چنچگوڑہ میں داخلوں سے متعلق طلبہ و طالبات کی رہنمائی

واضح رہے کہ اس معاملہ پر تلنگانہ اسٹیٹ پرائمری ٹیچرز اسوسی ایشن (ٹی ایس پی ٹی اے) اور مائناریٹی ایمپلائز ویلفیئر اسوسی (میوا) کی جانب سے ضلع مہتمم تعلیمات، ریجنل جوائنٹ ڈائریکٹر ورنگل، ڈائریکٹر آف اسکول ایجوکیشن اور پرنسپل سیکرٹری محکمہ تعلیم کو باضابطہ شکایت پیش کی گئی تھی۔ شکایت میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ 20 معصوم اقلیتی طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو دانستہ طور پر متاثر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

شکایت پر ابتدائی جانچ کے بعد ریجنل جوائنٹ ڈائریکٹر ورنگل نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ناگیشور راؤ کو عہدہ سے ہٹا دیا اور ایس۔ پدما، ہیڈمسٹریس زیڈ پی ایچ ایس منجلہ پور کو نرمل اربن منڈل ایجوکیشن آفیسر مقرر کرنے کے احکامات جاری کئے۔

ادھر معاملہ کی سنگینی کے پیش نظر مذکورہ تنظیموں نے ریاستی حقوق کمیشن میں بھی عرضی داخل کی، جبکہ ریاستی انسانی حقوق کمیشن نے اردو اور انگریزی اخبارات میں شائع شدہ خبروں کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے وضاحت طلب کی ہے۔

ٹی ایس پی ٹی اے اور میوا کے صدر شیخ شبیر علی نے اپنے بیان میں کہا کہ صرف عہدہ سے ہٹانا کافی نہیں، بلکہ 20 غریب اقلیتی طلبہ کے تعلیمی مستقبل سے کھلواڑ کرنے کے ذمہ دار عہدیدار کے خلاف معطلی یا خدمات سے برطرفی جیسی سخت تادیبی کارروائی ہونی چاہئے۔ انہوں نے زور دیا کہ محکمہ تعلیم میں مبینہ متعصب رویہ رکھنے والے عہدیداروں کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے، بصورت دیگر تنظیمیں اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی۔