حیدرآباد

’’نظام آباد کا نام بدل کر اندور کیا جائے گا‘‘— ایم پی ڈی اروند کا اشتعال انگیز بیان، ساتویں نظام کی توہین اور شائستگی کی حدیں پار

بھارتیہ جنتا پارٹی کے نظام آباد سے رکنِ پارلیمان ڈی اروند کے حالیہ بیان نے سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید ہلچل مچا دی ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے نظام آباد سے رکنِ پارلیمان ڈی اروند کے حالیہ بیان نے سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید ہلچل مچا دی ہے۔ ایک پریس کانفرنس کے دوران نظام آباد کے نام سے متعلق بات کرتے ہوئے ڈی اروند نے دکن کے ساتویں نظام کے نام کو لے کر نہ صرف گستاخانہ بلکہ انتہائی غیر شائستہ الفاظ استعمال کیے، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

متعلقہ خبریں
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
کابینہ میں نظام آباد، حیدرآباد اور رنگاریڈی سے نمائندگی صفر
،،یس آر گارڈن نلگنڈہ میں تحفظِ عقائد کانفرنس اور اسناد و انعامات کی تقسیم،،
بے روزگار نوجوانوں کیلئے ڈی ای ای ٹی ایک مؤثر ڈیجیٹل پلیٹ فارم: اقلیتی بہبود آفیسر آر۔ اندرا
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا

اپنی تقریر میں ڈی اروند نے کہا کہ “ایک گدھا نظام آیا تھا جس نے اندور کا نام بدل کر نظام آباد کیا”، اور مزید یہ دعویٰ بھی کیا کہ نظام نام اتنا “منحوس” ہے کہ اس نام سے جڑی کوئی چیز کامیاب نہیں ہوئی، مثال کے طور پر نظام شوگر مل کا بند ہو جانا۔ ان بیانات کو عوام اور دانشور طبقے نے تاریخ، تہذیب اور شخصیات کی توہین قرار دیا ہے۔

صرف یہی نہیں، ڈی اروند نے تلنگانہ کے سابق وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ (کے سی آر) کو بھی غیر شائستہ انداز میں یاد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فارم ہاؤس پر جا کر ان سے نظام آباد کا نام اندور کرنے کی درخواست کی تھی، لیکن “اس بوڑھے نے بھی بات نہیں مانی”۔ اس جملے کو بھی سیاسی مخالفین نے بے ادبی اور غیر ذمہ دارانہ رویہ قرار دیا ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ڈی اروند کا اس طرح کے الفاظ استعمال کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب ان کے بیانات کو توجہ نہیں ملتی تو وہ جان بوجھ کر اشتعال انگیز اور بدتمیز زبان استعمال کرتے ہیں تاکہ میڈیا اور عوام کی توجہ حاصل کی جا سکے۔

عوامی سطح پر اس معاملے پر مختلف ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ بی جے پی کو ایسے بیانات سے سیاسی فائدہ پہنچتا ہے، اسی لیے ڈی اروند پارٹی میں اب تک برقرار ہیں، ورنہ ان کی سیاسی حیثیت اتنی نہیں کہ وہ ایک کارپوریٹر بھی بن سکیں۔ وہیں بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ “نیا بھارت” ہے، جہاں مشہور ہونے کے لیے کام کی نہیں بلکہ کسی بڑی شخصیت کا نام لے کر بدتمیزی کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ڈی اروند کے بیان کے بعد نظام آباد میں نام کی تبدیلی کے مسئلے سے زیادہ ان کی زبان اور لہجے پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں اور باشعور شہریوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ عوامی نمائندوں کو ذمہ داری اور شائستگی کے دائرے میں رہ کر بات کرنی چاہیے۔

یہ معاملہ نہ صرف نظام آباد کی سیاست بلکہ ریاستی سیاست میں بھی ایک نیا تنازع بن کر ابھرا ہے، جس پر آنے والے دنوں میں مزید ردعمل اور سیاسی بیانات متوقع ہیں۔