قومی

ریپو شرح میں کوئی تبدیلی نہیں کی:رِیزرو بینک

ریزرو بینک کے گورنر سنجے ملہوترا نے مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا کہ جغرافیائی سیاسی تناؤ بلند ہے اور عالمی تجارت میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ اس دوران ہندستانی معیشت مضبوط بنی ہوئی ہے۔ یورپی یونین اور امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدوں سے اسے مزید رفتار ملنے کی توقع ہے۔

ممبئی: ریزرو بینک انڈیا (آر بی آئی) نے جمعہ کو ختم ہونے والی مالیاتی جائزہ میں ریپو شرح میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے۔

متعلقہ خبریں
حکومت کی پالیسیوں سے کروڑوں افراد کی معاشی حالت کمزو :پرینکا
100 ٹن سونا لانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا: چدمبرم
ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں میں یو پی آئی پیمنٹ کی حد بڑھا دی گئی
سیبی اور آر بی آئی کو جئے رام رمیش کا مکتوب


ریزرو بینک کے گورنر سنجے ملہوترا نے مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا کہ جغرافیائی سیاسی تناؤ بلند ہے اور عالمی تجارت میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ اس دوران ہندستانی معیشت مضبوط بنی ہوئی ہے۔ یورپی یونین اور امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدوں سے اسے مزید رفتار ملنے کی توقع ہے۔


انہوں نے بتایا کہ ایم پی سی نے متفقہ طور پر ریپو شرح کو 5.25 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ دیگر پالیسی شرحیں بھی ویسی ہی رکھی گئیں۔ کمیٹی نے مستقبل کے رویے کے لیے پہلے کی طرح غیر جانبدارانہ موقف برقرار رکھا ہے۔


کمیٹی نے موجودہ مالی سال کی چوتھی سہ ماہی (جنوری تا مارچ) میں خوردہ مہنگائی 3.2 فیصد اور پورے مالی سال کے دوران 2.1 فیصد رہنے کا اندازہ ظاہر کیا ہے۔ اگلے مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے لیے خوردہ مہنگائی کا تناسب بڑھا کر 4 فیصد اور دوسری سہ ماہی کے لیے 4.2 فیصد کیا گیا ہے۔ مسٹر ملہوترا نے بتایا کہ اس کی بنیادی وجہ سونے اور چاندی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہے۔


سینٹرل بینک نے موجودہ مالی سال میں مجموعی داخلی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 7.3 فیصد رہنے کا اندازہ ظاہر کیا ہے۔ اس نے کہا کہ اگلے مالی سال کی پہلی اور دوسری سہ ماہی کے لیے شرح نمو کا اندازہ بڑھا کر بالترتیب 6.9 فیصد اور 7 فیصد کر دیا گیا ہے۔


ریزرو بینک نے پچھلے سال چار بار ریپو شرح میں کل 1.25 فیصد کمی کی تھی۔ دسمبر 2025 کے پچھلے اجلاس میں اس نے ریپو شرح 0.25 فیصد گھٹا کر 5.25 فیصد کر دی تھی۔