تلنگانہ

تلنگانہ میں اردو ووٹر لسٹ کی عدم اشاعت جمہوری حقوق کی خلاف ورزی: محمد شکیل ایڈووکیٹ

انڈین یونین مسلم لیگ (IUML) کے تلنگانہ ریاستی صدر اور معروف وکیل محمد شکیل ایڈووکیٹ نے ریاست بھر میں اردو میں ووٹر لسٹ کی اشاعت اور موجودہ فہرستوں کی فوری اصلاح کا مطالبہ کرتے ہوئے چیف الیکٹورل آفیسر / تلنگانہ اسٹیٹ الیکشن کمیشن کو ایک تفصیلی تحریری نمائندگی پیش کی ہے۔

حیدرآباد: انڈین یونین مسلم لیگ (IUML) کے تلنگانہ ریاستی صدر اور معروف وکیل محمد شکیل ایڈووکیٹ نے ریاست بھر میں اردو میں ووٹر لسٹ کی اشاعت اور موجودہ فہرستوں کی فوری اصلاح کا مطالبہ کرتے ہوئے چیف الیکٹورل آفیسر / تلنگانہ اسٹیٹ الیکشن کمیشن کو ایک تفصیلی تحریری نمائندگی پیش کی ہے۔

متعلقہ خبریں
بے روزگار نوجوانوں کیلئے ڈی ای ای ٹی ایک مؤثر ڈیجیٹل پلیٹ فارم: اقلیتی بہبود آفیسر آر۔ اندرا
،،یس آر گارڈن نلگنڈہ میں تحفظِ عقائد کانفرنس اور اسناد و انعامات کی تقسیم،،
جعلی ایچ ٹی کپاس کے بیجوں کا بڑا بھانڈا، 10 ٹن بیج ضبط، دو ملزمان گرفتار
یومِ جمہوریہ کی تقریبات میں محکمہ اقلیتی بہبود کی خدمات کی شاندار ستائش
نارائن پیٹ ضلع کو ختم کرنے کی افواہوں پر بی جے پی کا سخت ردعمل، ڈی کے ارونا کا انتباہ

محمد شکیل ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ اردو تلنگانہ کی دوسری سرکاری زبان ہونے کے باوجود، انتخابی فہرستیں صرف تلگو اور انگریزی میں شائع کی جا رہی ہیں، جو آئینی اور قانونی تقاضوں کے سراسر خلاف ورزی ہے۔ اس وقت اردو ووٹر لسٹ صرف حیدرآباد اور نظام آباد اربن پارلیمانی حلقوں تک محدود ہے، وہ بھی متعدد لسانی اور تکنیکی خامیوں کے ساتھ۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ اردو ووٹر لسٹ میں املا اور کتابت کی سنگین غلطیاں، ناموں کی غیر معیاری منتقلی (Transliteration)، اردو اور انگریزی رسم الخط کا بے جا اختلاط، اور تلگو ووٹر لسٹ کے مقابلے میں معیار کی شدید کمی پائی جاتی ہے، جس سے ووٹروں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے اور اردو میں ووٹر لسٹ شائع کرنے کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔

محمد شکیل نے مزید بتایا کہ ریاست کے بیشتر اضلاع اور اسمبلی حلقوں میں اردو ووٹر لسٹ کا مکمل فقدان ہے، جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں اردو بولنے والے شہری اپنے ناموں کی جانچ، اندراج اور تصحیح کے حق سے محروم ہیں، خصوصاً وہ افراد جو تلگو یا انگریزی سے مکمل طور پر واقف نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کے پیش نظر یہ مسئلہ مزید سنگین ہو جاتا ہے، کیونکہ تلنگانہ میں اردو بولنے والے شہری ایک بڑی اور اہم انتخابی آبادی رکھتے ہیں۔ ان کے لسانی حقوق کو نظر انداز کرنا شفاف، منصفانہ اور جامع جمہوری عمل کے منافی ہے۔

IUML تلنگانہ کی جانب سے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ:

  • ریاست بھر میں اردو، تلگو اور انگریزی میں ووٹر لسٹ شائع کی جائیں۔
  • موجودہ اردو ووٹر لسٹ کی فوری اصلاح اور معیار بندی کی جائے۔
  • اردو ووٹر لسٹ کو محض علامتی ترجمہ نہ بنایا جائے بلکہ تلگو کے مساوی مستند حیثیت دی جائے۔
  • مستقبل کے تمام انتخابی مراحل میں اردو کے منظم اور مستقل استعمال کو یقینی بنایا جائے۔

محمد شکیل ایڈووکیٹ نے واضح کیا کہ یہ مطالبہ کسی ایک طبقہ کے لیے نہیں بلکہ آئینی اقدار، لسانی انصاف اور جمہوری شمولیت کے تحفظ کے لیے ہے، اور عوام کو ان کی مادری زبان میں انتخابی معلومات فراہم کرنا ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ تلنگانہ اسٹیٹ الیکشن کمیشن عوامی مفاد میں اس اہم مسئلہ پر فوری اور مؤثر کارروائی کرے گا۔