اب کشمیر میں مساجد، مدارس، ائمہ اور اساتذہ کا ریکارڈ ہوگا محفوظ، چندہ اور اخراجات کی تفصیلات بھی مطلوب
کشمیر میں حکام نے مساجد، مدارس اور ان کے انتظام سے وابستہ افراد کی پروفائلنگ کا تفصیلی عمل شروع کر دیا ہے۔
کشمیر میں حکام نے گزشتہ سال ایک بڑے ’وائٹ کالر‘ دہشت گرد ماڈیول کے بے نقاب ہونے کے بعد مساجد، مدارس اور ان کے انتظام سے وابستہ افراد کی پروفائلنگ کا تفصیلی عمل شروع کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد نگرانی کو مضبوط بنانا، ریکارڈ کو بہتر بنانا اور مذہبی اداروں کے کسی بھی غیرقانونی استعمال کو روکنا ہے۔
حکام کے مطابق، اس سلسلے میں دیہات کے نمبر داروں (ریونیو محکمے کے گاؤں کی سطح کے ملازمین) کو ایک مخصوص فارم دیا گیا ہے، جس کے ذریعے کشمیر کے مختلف علاقوں میں موجود مساجد اور مدارس سے متعلق معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔ اس عمل کے تحت مساجد اور مدارس، امام صاحبان، مدرسوں کے اساتذہ اور انتظامی کمیٹی کے اراکین کی تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں۔
اس پروفائلنگ مہم کا ایک اہم پہلو مساجد اور مدارس کے مالی معاملات ہیں۔ حکام زمینوں اور عمارتوں کی تعمیر کے لیے استعمال ہونے والے فنڈز کے ذرائع، عطیات اور چندہ، اور روزمرہ اخراجات سے متعلق معلومات طلب کر رہے ہیں۔ اس کا مقصد ان مذہبی اداروں کے مالی نظام میں شفافیت اور جواب دہی کو یقینی بنانا ہے۔
اسی کے ساتھ، اماموں، اساتذہ اور انتظامی کمیٹی کے اراکین سے کئی ذاتی اور شناختی تفصیلات بھی مانگی گئی ہیں۔ ان میں آدھار کارڈ اور بینک اکاؤنٹ کی معلومات، جائیداد کی تفصیل، پاسپورٹ، راشن کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس، سم کارڈز اور موبائل فون کے آئی ایم ای آئی نمبر، نیز سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی معلومات شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام معلومات ایک مرکزی ڈیٹا بیس تیار کرنے کے لیے استعمال کی جائیں گی۔
حکام کے مطابق، یہ اقدام نومبر میں سامنے آنے والے اس کیس کے بعد کیا جا رہا ہے جس میں جموں و کشمیر پولیس نے دیگر ریاستی پولیس فورسز کے تعاون سے ایک دہشت گرد ماڈیول کو بے نقاب کیا تھا۔ تفتیش میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ کچھ مشتبہ افراد کو سوشل میڈیا یا بعض نیٹ ورکس کے ذریعے انتہاپسندی کی طرف مائل کیا گیا تھا، جس کے بعد مخصوص حلقوں پر مزید توجہ دی جا رہی ہے۔ فارم میں اس بات کی معلومات بھی طلب کی گئی ہیں کہ مسجد یا مدرسہ کس مسلک سے وابستہ ہے، جیسے بریلوی، دیوبندی، حنفی یا اہل حدیث۔
حکام نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ کشمیر میں صدیوں سے رائج صوفی روایات سے مختلف سخت گیر نظریات کو نوجوانوں کی انتہاپسندی کی ایک وجہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں متعلقہ افراد سے ماضی میں کسی بھی دہشت گرد یا تخریبی سرگرمی میں ملوث ہونے، زیر التوا مقدمات یا عدالت سے سزا سے متعلق تفصیلات فراہم کرنے کو بھی کہا گیا ہے۔
اس سے قبل کی گئی تفتیش میں ایک بین الصوبائی دہشت گرد نیٹ ورک کا بھی انکشاف ہوا تھا، جس کے روابط مختلف ریاستوں تک پھیلے ہوئے تھے اور جس کے دوران بڑی مقدار میں بارودی مواد ضبط کیا گیا اور کئی گرفتاریاں عمل میں آئیں۔
حکام کا واضح کہنا ہے کہ مساجد اور مدارس کی یہ پروفائلنگ کسی مذہبی ادارے کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہے کہ یہ ادارے قانون اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کریں اور کسی بھی غلط استعمال کا بروقت سدباب کیا جا سکے۔ یہ عمل آئندہ ہفتوں میں بھی جاری رہنے کا امکان ہے، تاکہ وادی بھر میں ایک مستند اور جامع ریکارڈ تیار کیا جا سکے۔