تلنگانہ

ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے کا سلسلہ جاری، حیدرآباد میں بھی ہزاروں درخواستیں

تلنگانہ میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی (SIR) کے تحت دعوؤں اور اعتراضات کا مرحلہ 7 اکتوبر کو ختم ہونے کے باوجود ووٹروں کے نام حذف کرنے کی درخواستوں کا سلسلہ جاری ہے۔ الیکشن حکام کے اعداد و شمار کے مطابق 8 اکتوبر سے 31 اکتوبر کے درمیان فارم 7 کے تحت نام حذف کرنے کے لیے مجموعی طور پر 50,908 درخواستیں داخل کی گئیں۔

حیدرآباد: تلنگانہ میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی (SIR) کے تحت دعوؤں اور اعتراضات کا مرحلہ 7 اکتوبر کو ختم ہونے کے باوجود ووٹروں کے نام حذف کرنے کی درخواستوں کا سلسلہ جاری ہے۔ الیکشن حکام کے اعداد و شمار کے مطابق 8 اکتوبر سے 31 اکتوبر کے درمیان فارم 7 کے تحت نام حذف کرنے کے لیے مجموعی طور پر 50,908 درخواستیں داخل کی گئیں۔

ان میں سے 48,623 درخواستوں کو منظوری دیتے ہوئے متعلقہ ووٹروں کے نام حتمی فہرست سے حذف کرنے کے لیے قبول کرلیا گیا، جبکہ صرف 435 درخواستیں مسترد کی گئیں۔ ان اعداد و شمار کے سامنے آنے کے بعد ریاست میں ایس آئی آر کے طریقہ کار اور درخواستوں کی جانچ کے عمل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

ضلع واری اعداد و شمار کے مطابق رنگاریڈی ضلع درخواستوں کے معاملے میں سرفہرست رہا، جہاں 11,935 درخواستیں داخل کی گئیں اور ان میں سے 11,378 کو منظوری دی گئی۔ حیدرآباد دوسرے مقام پر رہا، جہاں 9,858 درخواستیں موصول ہوئیں۔ ان میں سے 9,616 درخواستیں منظور کی گئیں، جبکہ صرف 4 درخواستیں مسترد ہوئیں۔

اسی طرح میڑچل ملکاجگری ضلع میں 4,018 درخواستیں داخل کی گئیں، جن میں سے 3,783 کو منظوری دی گئی اور 4 درخواستیں مسترد ہوئیں۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ دعوؤں اور اعتراضات کے مقررہ مرحلے کے دوران، یعنی 17 اگست سے 7 اکتوبر تک، فارم 7 کے تحت صرف 15,442 درخواستیں داخل ہوئی تھیں۔ ان میں سے 12,930 درخواستیں منظور اور 1,637 مسترد کی گئی تھیں۔ تاہم، مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد محض چند ہفتوں میں 50 ہزار سے زائد درخواستوں کا داخل ہونا اور ان کی بڑی تعداد کو منظوری ملنا کئی سوالات پیدا کر رہا ہے۔

اس معاملے پر تلنگانہ چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر کے سینئر عہدیداروں سے رابطہ کیا گیا، تاہم وہ دعوؤں اور اعتراضات کی مدت ختم ہونے کے بعد اتنی بڑی تعداد میں درخواستیں داخل ہونے کی واضح وضاحت نہیں کرسکے۔

دوسری جانب ریاستی انتخابی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اعداد و شمار تیار کرنے کے عمل میں تکنیکی خرابی پیدا ہوئی تھی، جس کے باعث بعض سابقہ درخواستیں بھی موجودہ اعداد و شمار میں شامل ہوگئیں۔

عہدیداروں کے مطابق کسی ووٹر کا نام فہرست سے حذف کرنا آسان عمل نہیں ہے۔ اس کے لیے الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (ERO) کو وجوہات درج کرتے ہوئے باقاعدہ تحریری حکم جاری کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اسی حکم کے بعد ووٹر کا نام فہرست سے حذف کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کوشش کی جارہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ اہل ووٹروں کے نام حتمی فہرست میں شامل رہیں۔

دریں اثنا، یکم جنوری سے 31 اکتوبر تک تلنگانہ میں فارم 7 کے تحت مجموعی طور پر 5,88,659 درخواستیں درج کی گئیں۔ ان میں سے 5,16,052 درخواستوں کو منظوری دی گئی، 57,980 مسترد ہوئیں، جبکہ 14,627 درخواستیں اب بھی زیر التوا ہیں۔