جرائم و حادثاتقومی
ٹرینڈنگ

اسکول میں کیمروں کی آنکھوں کے سامنے سب کچھ ہوتا رہا، کسی کو خبر تک نہ ہوئی؟(ویڈیو)

متاثرہ بچی کے افراد خاندان کا الزام ہے کہ ملزم طالب علم نے اسے یہ کہہ کر اسکول کی پہلی منزل پر بلایا کہ اس کے والد اسے بلا رہے ہیں۔ خاندان کے مطابق وہاں پہنچنے کے بعد بچی پر مبینہ طور پر حملہ کیا گیا۔

پنچکولہ: ہریانہ کے پنچکولہ میں ایک سرکاری اسکول کے اندر چھ سالہ معصوم طالبہ پر مبینہ حملہ کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ اس معاملہ میں تیسری جماعت کے ایک آٹھ سالہ طالب علم پر حملہ کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ واقعہ کے بعد اسکول کی حفاظتی انتظامات اور سی سی ٹی وی کیمروں کی نگرانی کے نظام پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ اسکول کے احاطہ میں پیش آیا جہاں طالبہ کو مبینہ طور پر شدید زخمی حالت میں بے ہوش پایا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ واقعہ کی ویڈیو اسکول میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں میں قید ہوگئی جو بعد میں سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوئی۔

متاثرہ بچی کے افراد خاندان کا الزام ہے کہ ملزم طالب علم نے اسے یہ کہہ کر اسکول کی پہلی منزل پر بلایا کہ اس کے والد اسے بلا رہے ہیں۔ خاندان کے مطابق وہاں پہنچنے کے بعد بچی پر مبینہ طور پر حملہ کیا گیا۔

بچی کے چچا فیصل نے بتایا کہ بچی روزانہ کی طرح صبح اسکول گئی تھی اور اس سے قبل کسی قسم کے جھگڑے یا پریشانی کی اطلاع نہیں تھی۔ اسکول ختم ہونے کے بعد جب اسے لینے کے لئے آٹو ڈرائیور پہنچا تو بچی وہاں موجود نہیں تھی۔ اسکول کے عملہ نے بھی اس کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی جس کے بعد افراد خاندان فوری طور پر اسکول پہنچے۔

فیصل کے مطابق خاندان نے جب اسکول میں بچی کی تلاش شروع کی تو اسی طالب علم نے انہیں بتایا کہ بچی اوپر کی منزل پر پڑی ہوئی ہے۔ وہاں پہنچنے پر بچی بے ہوش اور شدید زخمی حالت میں ملی۔

والدین کا کہنا ہے کہ بچی پر پہلے پتھر سے حملہ کیا گیا اور بعد ازاں پھولوں کے گملے اور اینٹ کا استعمال کیا گیا۔ واقعہ میں بچی کو شدید چوٹیں آئیں۔

بچی کے والدین نے اسکول انتظامیہ کی جانب سے حفاظتی انتظامات اور سی سی ٹی وی کیمروں کی نگرانی پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسکول کے کلاس رومز میں کیمرے نصب ہونے کے باوجود اتنا سنگین واقعہ پیش آنا تشویش ناک ہے۔

فیصل کے مطابق بعض اساتذہ کو سرکاری ڈیوٹی کے لئے دوسری جگہ بھیجا گیا تھا، جس کے باعث دو سے تین جماعتوں کو ایک ہی ٹیچر کی نگرانی میں رکھا گیا تھا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اسکول کے پرنسپل کے ڈیوٹی اوقات سہ پہر 3 بجے تک تھے، جبکہ یہ واقعہ 3 بجے سے 3:15 بجے کے درمیان پیش آیا۔

والدین کا کہنا ہے کہ پرنسپل کے دفتر میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعہ اسکول میں طلبہ اور دیگر افراد کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکتی تھی لیکن متعلقہ وقت میں دفتر میں کوئی موجود نہیں تھا۔

خاندان نے سوال کیا ہے کہ جب اسکول میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب تھے تو ان کی باقاعدہ نگرانی کیوں نہیں کی گئی اور بچی کی حفاظت کے لئے مناسب عملہ کیوں تعینات نہیں تھا۔

اس واقعہ نے تعلیمی اداروں میں بچوں کی حفاظت، اساتذہ کی نگرانی اور سی سی ٹی وی نظام کی مؤثر کارکردگی سے متعلق اہم سوالات کھڑے کر دئے ہیں۔