مغربی ایشیا بحران: وزیر اعظم نریندر مودی کی وزرائے اعلیٰ کے ساتھ اہم میٹنگ، سی ایم ریونت ریڈی کی شرکت
مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے پیش نظر وزیر اعظم نریندر مودی نے ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ اور لیفٹیننٹ گورنرز کے ساتھ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ایک اہم جائزہ میٹنگ کی صدارت کی
مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے پیش نظر وزیر اعظم نریندر مودی نے ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ اور لیفٹیننٹ گورنرز کے ساتھ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ایک اہم جائزہ میٹنگ کی صدارت کی، جس میں ملک کی معیشت، توانائی کی سلامتی اور سپلائی چین پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ اس میٹنگ میں مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے شرکت کی، جن میں تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی بھی شامل تھے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے “ٹیم انڈیا” کے جذبے کے تحت مرکز اور ریاستوں کے درمیان قریبی تال میل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں چوکسی، پیشگی منصوبہ بندی اور مضبوط رابطہ کاری انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے ریاستوں کو ہدایت دی کہ سپلائی چین کو بلا رکاوٹ برقرار رکھا جائے، ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، اور عوام تک درست معلومات بروقت پہنچائی جائیں تاکہ افواہوں کو روکا جا سکے۔
وزیر اعظم نے زرعی شعبے میں پیشگی منصوبہ بندی، خاص طور پر کھاد کی ذخیرہ اندوزی اور تقسیم کی نگرانی، اور سرحدی و ساحلی ریاستوں میں شپنگ اور ضروری اشیا کی فراہمی پر خصوصی توجہ دینے کی بھی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ کنٹرول رومز، ہیلپ لائنز اور نوڈل افسران کو فعال رکھا جائے تاکہ عوام کو بروقت مدد فراہم کی جا سکے۔
میٹنگ کے دوران تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے ریاست کی تیاریوں سے متعلق تفصیلات پیش کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرول، ڈیزل اور گیس کی سپلائی کی مسلسل نگرانی کے لیے چیف سیکریٹری کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی گئی ہے جو حیدرآباد کے کمانڈ کنٹرول سنٹر سے صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 33 اضلاع میں کمیٹیاں تشکیل دے کر نوڈل افسران مقرر کیے گئے ہیں تاکہ سپلائی کو برقرار رکھا جا سکے اور بلیک مارکیٹنگ کو روکا جا سکے، جبکہ اسپتالوں، اسکولوں، یتیم خانوں اور اولڈ ایج ہومز کو ترجیحی بنیاد پر گیس سلنڈرز فراہم کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے وزیر اعظم کو آگاہ کیا کہ ریاست میں روزانہ 36,189 کلو لیٹر پیٹرول و ڈیزل استعمال ہوتا ہے جبکہ اس وقت 1,88,210 کلو لیٹر کا وافر ذخیرہ موجود ہے، جس سے کسی بھی قسم کی قلت کا خدشہ نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
سی ایم ریونت ریڈی نے طویل مدتی منصوبوں پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ریاست میں الیکٹرک وہیکلز (EV) کے فروغ کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں 100 فیصد روڈ ٹیکس اور رجسٹریشن فیس میں چھوٹ شامل ہے۔ اس کے علاوہ حیدرآباد میں تقریباً 1.20 لاکھ آٹوز کو EV میں تبدیل کرنے کا منصوبہ اور آر ٹی سی میں الیکٹرک بسوں کے استعمال کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
اجلاس کے دوران وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ حکومت اس بحران سے نمٹنے کے لیے سرگرم ہے اور پیٹرول و ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی میں کمی اور ایل پی جی کی دستیابی کو یقینی بنانے جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ کابینہ سکریٹری نے بھی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔
اجلاس میں وزرائے اعلیٰ نے مرکزی حکومت کے اقدامات کو سراہتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ وہ مرکز کے ساتھ قریبی تال میل کے ساتھ کام کرتے ہوئے صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹیں گے اور شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنائیں گے۔
آخر میں وزیر اعظم نے کہا کہ یہ ایک مشترکہ ذمہ داری ہے اور “ٹیم انڈیا” کے جذبے کے ساتھ ملک اس چیلنج پر کامیابی سے قابو پا لے گا۔