کرناٹک

پولیس انسپکٹر 4 لاکھ روپے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار

اکبر کی جانب سے درج کرائی گئی ایک باقاعدہ شکایت کے بعد یہ کارروائی عمل میں آئی، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ انسپکٹر نےبیننگ آف ان ریگولیٹڈ ڈپازٹ اسکیمز ایکٹ کے تحت پولیس اسٹیشن میں درج دھوکہ دہی کے ایک کیس سے ان کا نام ہٹانے کے عوض 5 لاکھ روپے رشوت مانگی تھی۔

بنگلورو: بدعنوانی کے خلاف ایک بڑی کارروائی میں ہفتہ کے روز کرناٹک لوک آیوکت پولیس نے ایک پولیس انسپکٹر کو مبینہ طور پر 4 لاکھ روپے رشوت لیتے ہوئے گرفتار کر لیا ہے۔

متعلقہ خبریں
بھینسہ میں آن لائن سٹہ گینگ کا پردہ فاش،اہم رکن گرفتار ،دیڑھ کروڑ کا سونا، نقدی و دستاویزات برآمد
حضرت شیخ شاہ افضل الدین جنیدی سراج باباامیرکبیرالسادۃ الجنیدیہ الحسینیہ(فی الھند) مقرر
انجینئرنگ کالج میڑچل میں طالبات کی خفیہ فلمبندی کیس میں دو گرفتار
ماونواز لیڈر کشن جی کی اہلیہ سجاتکا زیرحراست!
ہبالی فساد کیس واپس لینے کی مدافعت: وزیر داخلہ کرناٹک

ملزم کی شناخت انسپکٹر گووند راجو کے طور پر ہوئی ہے جو بنگلورو کے کے پی اگراہارا پولیس اسٹیشن میں تعینات تھے۔ لوک آیوکت حکام کے مطابق، انہیں چامراج پیٹ میں سٹی آرمڈ ریزرو (سی اے آر) گراؤنڈ میں شام تقریباً 4:30 بجے ایک شکایت گزار محمد اکبر، جو کہ ایک بلڈر ہیں، سے مبینہ طور پر رقم وصول کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔

اکبر کی جانب سے درج کرائی گئی ایک باقاعدہ شکایت کے بعد یہ کارروائی عمل میں آئی، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ انسپکٹر نےبیننگ آف ان ریگولیٹڈ ڈپازٹ اسکیمز ایکٹ کے تحت پولیس اسٹیشن میں درج دھوکہ دہی کے ایک کیس سے ان کا نام ہٹانے کے عوض 5 لاکھ روپے رشوت مانگی تھی۔


اکبر نے 24 جنوری کو ابتدائی طور پر 1 لاکھ روپے ادا کیے تھے پھر لوک آیوکت پولیس کے پاس شکایت درج کرانے کے بعد اس کی گرفتاری میں پولیس کی مدد کی ۔پولیس نے ملزم کو پکڑنے کے لیے ایک جال بچھایا اور جیسے ہی اکبر نے بقیہ 4 لاکھ روپے دیئے پولیس نے فوراً کارروائی کی۔

ان نوٹوں پر پہلے سے ‘فینولفتھلین پاؤڈر’ (ایک خاص کیمیکل) لگایا گیا تھا تاکہ رشوت لینے کے ثبوت حاصل کیے جا سکیں۔ اس موقع پر گووند راجو کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر کے حراست میں لے لیا گیا۔ اب اس کے خلاف انسدادِ بدعنوانی ایکٹ کے تحت معاملہ درج ہو چکا ہے اور پولیس معاملے کی گہرائی سے تفتیش کر رہی ہے۔