تلنگانہ

شمس آباد میں 650 ایکڑ متنازع اراضی پر کارروائی کی تیاری، بی آر ایس کا حکومت پر سنگین الزامات

بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) نے الزام عائد کیا ہے کہ تلنگانہ حکومت شمس آباد منڈل کے بہادر گوڑہ گاؤں میں واقع 650 ایکڑ متنازع زرعی اراضی پر قبضے کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائی کی تیاری کر رہی ہے۔ پارٹی کے مطابق اس مقصد کے لیے حیدرا (HYDRAA)، محکمہ ریونیو اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کی جا رہی ہے۔

حیدرآباد: بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) نے الزام عائد کیا ہے کہ تلنگانہ حکومت شمس آباد منڈل کے بہادر گوڑہ گاؤں میں واقع 650 ایکڑ متنازع زرعی اراضی پر قبضے کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائی کی تیاری کر رہی ہے۔ پارٹی کے مطابق اس مقصد کے لیے حیدرا (HYDRAA)، محکمہ ریونیو اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کی جا رہی ہے۔

بی آر ایس کے مطابق بہادر گوڑہ گاؤں کے سروے نمبر 28 اور 68 میں واقع اراضی کے گرد باڑ لگانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ اگر کسان یا مقامی دیہاتی اس کارروائی کی مخالفت کریں گے تو انہیں گرفتار کرنے کی بھی تیاری کی جا رہی ہے۔

اپوزیشن جماعت نے الزام لگایا کہ اس کارروائی کے لیے پولیس کی خصوصی نفری، خواتین پولیس پلاٹون، پولیس گاڑیاں اور دیگر وسائل مختص کیے گئے ہیں۔ بی آر ایس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ سائبر آباد پولیس کمشنریٹ کے اہلکاروں کو علی الصبح مخصوص مقام پر رپورٹ کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

بی آر ایس نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ یہ کارروائی بی آر ایس یوتھ سنگرام سبھا سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ متعلقہ اراضی سے متعلق عدالتی حکمِ امتناع (اسٹے آرڈر) موجود ہونے کے باوجود حکومت باڑ بندی اور انہدامی کارروائی کی تیاری کر رہی ہے۔

پارٹی نے مطالبہ کیا کہ قانونی تنازع کے مکمل طور پر حل ہونے تک حکومت کسی بھی قسم کی کارروائی سے گریز کرے اور کسانوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔

تاہم، اس خبر کے شائع ہونے تک تلنگانہ حکومت، حیدرا (HYDRAA) یا متعلقہ حکام کی جانب سے ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، اور نہ ہی باڑ بندی، گرفتاریوں یا انہدامی کارروائی سے متعلق ان دعوؤں کی سرکاری طور پر تصدیق کی گئی ہے۔