انسٹاگرام پر سستے قرض کا جھانسہ، سائبر فراڈ میں ملوث سافٹ ویئر انجینئر گرفتار
پولیس کی تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ اسی طریقۂ واردات سے 30 سے زائد افراد کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ تفتیش کے نتیجے میں حیدرآباد کے مشیرآباد علاقے سے تعلق رکھنے والے سافٹ ویئر ملازم تلاری آکاش کو اس سائبر فراڈ ریکیٹ میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔
حیدرآباد: انسٹاگرام پر کم شرح سود پر قرض فراہم کرنے کا جھانسہ دے کر لوگوں سے رقم بٹورنے والے سائبر فراڈ ریکیٹ کا پردہ فاش کرتے ہوئے پولیس نے ایک سافٹ ویئر انجینئر کو گرفتار کر لیا، جبکہ اس کے چار ساتھی تاحال مفرور ہیں۔
پولیس کے مطابق عادل آباد رورل پولیس اسٹیشن کے حدود میں واقع انکولی گاؤں کے رہائشی میسرم پروین نے انسٹاگرام ریلز دیکھتے ہوئے کم سود پر آن لائن قرض فراہم کرنے والے ایک اشتہار پر کلک کیا۔ اشتہار پر کلک کرتے ہی سائبر ٹھگوں نے واٹس ایپ کے ذریعے اس سے رابطہ کیا اور قرض کی منظوری، پروسیسنگ فیس، ای ایم آئی اور سروس چارجز کے نام پر مختلف اقساط میں 17,951 روپے وصول کر لیے۔
بعد ازاں جب قرض منظور نہیں ہوا تو پروین کو احساس ہوا کہ وہ سائبر دھوکہ دہی کا شکار ہو چکا ہے، جس کے بعد اس نے عادل آباد رورل پولیس سے رجوع کرتے ہوئے شکایت درج کرائی۔
پولیس کی تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ اسی طریقۂ واردات سے 30 سے زائد افراد کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ تفتیش کے نتیجے میں حیدرآباد کے مشیرآباد علاقے سے تعلق رکھنے والے سافٹ ویئر ملازم تلاری آکاش کو اس سائبر فراڈ ریکیٹ میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس کے مطابق اس مقدمے میں مزید چار ملزمان کی شناخت ہو چکی ہے، تاہم وہ فی الحال مفرور ہیں اور ان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ سوشل میڈیا پر کم سود پر قرض فراہم کرنے والے اشتہارات پر اندھا اعتماد نہ کریں اور کسی بھی آن لائن قرض کی پیشکش پر رقم ادا کرنے سے قبل اس کی مکمل تصدیق ضرور کریں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور امکان ہے کہ اس فراڈ کے مزید متاثرین بھی سامنے آ سکتے ہیں۔