تلنگانہ

تلنگانہ میں پنچایت انتخابات کی تیاریاں تیز، ووٹر لسٹ کی نظرثانی کا آج سے آغاز، تین مراحل میں ہوگی ووٹنگ

الیکشن کمیشن نے حال ہی میں تمام ضلع کلکٹروں کے ساتھ ویڈیو کانفرنس منعقد کی، جس میں انتخابی انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ کمیشن نے کلکٹروں کو ہدایت دی ہے کہ انتخابات انتہائی منظم، شفاف اور پرامن طریقے سے منعقد کیے جائیں۔

حیدرآباد: تلنگانہ اسٹیٹ الیکشن کمیشن (SEC) مقامی ادارہ جات کے انتخابات کے شیڈول کے اعلان کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ امکان ہے کہ پنچایت انتخابات 26 یا 27 نومبر کو منعقد کیے جائیں گے، جبکہ گرام پنچایت انتخابات تین مراحل میں 11، 14 اور 17 دسمبر کو کرائے جائیں گے۔

متعلقہ خبریں
الیکشن کمیشن کا ووٹر آئی ڈی کو آدھار سے جوڑنے کا فیصل کیا ووٹنگ نظام مزید شفاف ہوگا؟
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
بے روزگار نوجوانوں کیلئے ڈی ای ای ٹی ایک مؤثر ڈیجیٹل پلیٹ فارم: اقلیتی بہبود آفیسر آر۔ اندرا
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا
جدہ میں ہندوستانی قونصل خانے میں 77واں یومِ جمہوریہ شان و شوکت سے منایا گیا

الیکشن کمیشن نے حال ہی میں تمام ضلع کلکٹروں کے ساتھ ویڈیو کانفرنس منعقد کی، جس میں انتخابی انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ کمیشن نے کلکٹروں کو ہدایت دی ہے کہ انتخابات انتہائی منظم، شفاف اور پرامن طریقے سے منعقد کیے جائیں۔

دوسری جانب، اسٹیٹ الیکشن کمیشن نے بدھ کے روز پنچایتوں میں ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے شیڈول کا بھی اعلان کردیا ہے۔ نظرثانی کا عمل آج سے 23 نومبر تک جاری رہے گا۔
20 نومبر کو ووٹروں کی درخواستیں، اعتراضات اور غلطیوں کی اصلاح قبول کی جائے گی، جبکہ 21 نومبر کو ان درخواستوں اور اعتراضات کی جانچ اور نمٹارہ کیا جائے گا۔
کمیشن کے مطابق، نظرثانی شدہ ووٹر لسٹ اور پولنگ اسٹیشنوں کی تفصیلات 23 نومبر کو شائع کی جائیں گی۔

اسٹیٹ الیکشن کمشنر رانی کُمودنی نے اس سلسلے میں تمام ضلع پنچایت عہدیداروں کو ضروری ہدایات جاری کر دی ہیں۔

ادھر حکومت یکم سے 9 دسمبر تک "پبلک ایڈمنسٹریشن ویک” منانے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے حالیہ کابینہ اجلاس میں پنچایت انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔

حکام کے مطابق، اگر پنچایت انتخابات 31 مارچ 2021 سے پہلے مکمل ہو جاتے ہیں، تو ریاست کو سنٹرل فنانس کمیشن سے فنڈز جاری ہونے کا امکان ہے، جس کی وجہ سے انتخابی عمل کو وقت پر مکمل کرنا ضروری سمجھا جا رہا ہے۔