مشرق وسطیٰ

غزہ میں تعلیمی سال سے متعلق افسوسناک خبر

7 اکتوبر سے غزہ کے تمام اسکول بھی بند پڑے ہوئے ہیں، اسرائیلی بمباری میں 253 اسکولوں کی عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں، اور 6 لاکھ 8 ہزار طلبہ تعلیم سے محروم ہو گئے ہیں۔

غزہ: بچے ہی نہیں رہے تو تعلیمی سال کیسا؟ تاریخ کی بد ترین صہیونی بربریت کا سامنا کرنے والے محصور شہر غزہ میں تعلیمی سال 2022-23 ختم کر دیا گیا۔ فلسطینی ادارہ شماریات کے مطابق غزہ میں اسکولوں کے 3 ہزار 117 اور مغربی کنارے میں 24 طلبہ شہید ہو چکے ہیں، اسرائیلی بمباری سے 130 اساتذہ اور تدریسی عملہ بھی شہید ہوا۔

متعلقہ خبریں
نیتن یاہو نے کم وسائل میں بھی لڑنے کا اعلان کیا
فلسطین سے جمع ہونے والے ٹیکس فنڈز سے متعلق افسوسناک خبر
انٹر سال دوم کے انگلش مضمون کا امتحان، 14ہزار طلبہ غیر حاضر
میگاڈی ایس سی منعقد کرنے حکومت کا منصوبہ، 9800 اساتذہ مخلوعہ کی جائیدادوں پر تقررات کا امکان
رفح پر اسرائیلی حملہ، خون کی ہولی کا باعث بن سکتا ہے: ڈبلیو ایچ او

7 اکتوبر سے غزہ کے تمام اسکول بھی بند پڑے ہوئے ہیں، اسرائیلی بمباری میں 253 اسکولوں کی عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں، اور 6 لاکھ 8 ہزار طلبہ تعلیم سے محروم ہو گئے ہیں۔

ادھر عالمی ادارہ صحت نے بھی خبردار کیا ہے کہ غزہ کا سب سے بڑا اسپتال الشفا قبرستان میں تبدیل ہو رہا ہے، ڈبلیو ایچ او کے حکام کا کہنا ہے کہ الشفا اسپتال کے اندر اور باہر بڑ ی تعداد میں لاشیں موجود ہیں، جب کہ بجلی اور پانی نہ ہونے کی وجہ سے اسپتال بالکل بھی کام نہیں کر رہا ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق الشفا اسپتال کے ڈاکٹرز نے بتایا ہے کہ لاشیں سڑ رہی ہیں، اسرائیلی فورسز لاشیں دفنانے کی اجازت نہیں دے رہیں، آکسیجن کی کمی کے باعث 7 نومولود دم توڑ چکے ہیں۔

فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ الشفا اور القدس اسپتال میں تمام آپریشنز بند ہو گئے، جنگ بندی نہیں ہوئی تو آئندہ 48 گھنٹوں میں غزہ کے تمام اسپتال پوری طرح بند ہو جائیں گے، واضح رہے کہ غزہ میں صہیونی فوج کی دہشت گردی 39 ویں دن بھی جاری ہے، رات بھر غزہ بمباری سے گونجتا رہا، اور جبالیہ کیمپ میں حملے میں مزید 30 فلسطینی شہید ہوئے۔

a3w
a3w