حیدرآباد کیلئے جدید ٹرانسپورٹ سسٹم پوڈ ٹیکسی متعارف کروانے کی تیاری
میٹرو مسافروں کو اسٹیشن سے ان کی منزل تک پہنچانے کے مسئلہ کو حل کرنے کے لیے پرسنل ریاپڈ ٹرانزٹ (پی آرٹی) کے نام سے یہ نظام لایا جا رہا ہے جو میٹرو اسٹیشنوں کو براہ راست بڑے دفاتر، آئی ٹی ہب اور رہائشی علاقوں سے جوڑے گا۔
حیدرآباد: حیدرآباد کے شہریوں کے لئے آمد و رفت کی سہولیات کو مزید بہتر بنانے کے لیے حکومت ایک جدید ٹرانسپورٹ سسٹم پوڈ ٹیکسی متعارف کروانے کی تیاری کر رہی ہے۔
میٹرو مسافروں کو اسٹیشن سے ان کی منزل تک پہنچانے کے مسئلہ کو حل کرنے کے لیے پرسنل ریاپڈ ٹرانزٹ (پی آرٹی) کے نام سے یہ نظام لایا جا رہا ہے جو میٹرو اسٹیشنوں کو براہ راست بڑے دفاتر، آئی ٹی ہب اور رہائشی علاقوں سے جوڑے گا۔
فی الوقت حیدرآباد میں روزانہ تقریباً پانچ لاکھ افراد میٹرو کا استعمال کرتے ہیں لیکن ان کو اسٹیشن سے اپنی منزل تک پہنچنے کے لئے بسوں اور آٹو کی عدم دستیابی، زیادہ کرائے اور ٹریفک کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان مشکلات کے پیشِ نظر حکومت نے سڑکوں کے ٹریفک سے ہٹ کر ایلیویٹڈ ٹریکس پر چلنے والی پوڈ ٹیکسیوں کے منصوبہ کا فیصلہ کیا ہے۔
پہلے مرحلہ میں یہ منصوبہ رائے درگم سے کوکٹ پلی، رائے درگم سے ہائی ٹیک سٹی، فینانشل ڈسٹرکٹ، نالج سٹی اور سکریٹریٹ کے قریبی علاقوں میں نافذ کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ یہ منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ڈیزائن، بلڈ، فینانس، آپریٹ اور ٹرانسفرماڈل پر یار کیا جائے گا جس کے لئے تکنیکی اور مالیاتی مطالعہ کرنے والے مشیر کے انتخاب کا عمل شروع ہو چکا ہے۔
یہ پوڈ ٹیکسیاں مکمل طور پر خودکار ہوں گی جو بغیر ڈرائیور کے چلیں گی اور ان کی رفتار 40 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوگی۔ ایک وقت میں 6 سے 8 مسافروں کی گنجائش والی یہ ٹیکسیاں فی گھنٹہ تقریباً 10 ہزار افراد کو منتقل کرنے کی صلاحیت رکھیں گی۔
بجلی یا بیٹری پر چلنے کی وجہ سے یہ ماحول دوست ہوں گی اور ان میں ایڈوانس بکنگ کی سہولت بھی میسر ہوگی جس سے سفر کا وقت کافی حد تک کم ہو جائے گا۔
ممبئی میں اس طرح کے منصوبے پر کام شروع ہونے کے بعد اب حیدرآباد بھی ٹرانسپورٹ کے اس نئے باب کا آغاز کرنے کے لئے تیار ہے۔ اور امید کی جا رہی ہے کہ چند سالوں میں یہ سہولت شہریوں کے لئے دستیاب ہوگی۔