حیدرآباد

حیدرآباد میٹرو ریل کی ملکیت حکومت کو منتقل کرنے کا عمل تیز

فی الوقت فرانسیسی کمپنی کیولس میٹرو کے آپریشنس سنبھال رہی ہے جس کا ایل اینڈ ٹی کے ساتھ معاہدہ نومبر تک ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حکومت اس معاہدہ میں ایک سال کی توسیع کر سکتی ہے کیونکہ براہ راست حکومت کی سطح پر میٹرو چلانا فی الحال ممکن نہیں ہے۔

حیدرآباد: تلنگانہ حکومت کی جانب سے حیدرآباد میٹرو ریل کو ایل اینڈ ٹی کمپنی سے اپنے قبضہ میں لینے کا عمل اب حتمی مراحل میں داخل ہو گیا ہے۔

متعلقہ خبریں
جلسہ بیاد محمد مظہر الدین مرحوم (مظہر ملت ) و دعوت افطار کا اہتمام
میٹرو ریل مرحلہ دوم کے تعمیراتی کاموں کو چیف منسٹر کی منظوری
مولانا نصیر الدین قاسمی کی ضمانت منظور، جمعیۃ علماء کی قانونی جدوجہد رنگ لے آئی
رمضان المبارک کے پہلے عشرہ کا اختتام روحانی تزک و احتشام کے ساتھ تکمیل،مولانامفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب
جمعیۃ اہلِ حدیث کے وفد کی ٹمریز چیئرمین محمد فہیم قریشی سے ملاقات، رمضان میں سحر و افطار و تراویح کے تاریخی انتظام پر مبارکباد

حال ہی میں ریاستی کابینہ کی جانب سے اس فیصلہ کو منظوری دیے جانے کے بعد حکومت نے مختلف ایجنسیوں کو ذمہ داری سونپی ہے تاکہ اثاثوں کی منتقلی کے دوران کسی قسم کی قانونی پیچیدگی پیدا نہ ہو۔


میٹرو کی ملکیت حکومت کے پاس آنے کے باوجود، اس کے آپریشنس اور دیکھ بھال کی ذمہ داری بدستور خانگی شعبہ کے پاس رہنے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق، حکومت کی نگرانی میں ایک تھرڈ پارٹی ایجنسی میٹرو کے روزمرہ کے معاملات دیکھے گی۔

فی الوقت فرانسیسی کمپنی کیولس میٹرو کے آپریشنس سنبھال رہی ہے جس کا ایل اینڈ ٹی کے ساتھ معاہدہ نومبر تک ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حکومت اس معاہدہ میں ایک سال کی توسیع کر سکتی ہے کیونکہ براہ راست حکومت کی سطح پر میٹرو چلانا فی الحال ممکن نہیں ہے۔


ایل اینڈ ٹی کمپنی نے قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کی وجہ سے میٹرو کی ذمہ داریوں سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق دسمبر تک میٹرو پر بینکوں کے کنسورشیم کا تقریباً 12,965 کروڑ روپے کا قرض واجب الادا ہے۔


وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کی حکومت سود کے بوجھ کو کم کرنے کے لئے ری فنانسنگ پر کام کر رہی ہے۔ اس مقصد کے لئے ایک خصوصی کارپوریشن تشکیل دی جائے گی۔ انڈین ریلوے فینانس کارپوریشن نے حکومت کو قرض فراہم کرنے کے لئے آمادگی ظاہر کی ہے، جو جلد ہی موصول ہونے کی توقع ہے۔


حکومت نے اس پورے منتقلی کے عمل کو آئندہ چند ماہ کے اندر مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن مقرر کی ہے۔ اس تبدیلی کے بعد میٹرو مکمل طور پر سرکاری ملکیت میں آ جائے گی تاہم مسافروں کے لئے سفری سہولیات اور انتظام میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں ہوگی کیونکہ تکنیکی انتظام ماہر خانگی ایجنسیاں ہی سنبھالیں گی۔