حیدرآباد

حیدرآباد کےمسلم معاشرے میں ٹال مٹول، ترقی کی رفتار سست کرنے والا ایک خاموش مسئلہ

حیدرآباد کے مسلم معاشرے میں ٹال مٹول (Procrastination) ایک ایسا رویہ بنتا جا رہا ہے جو بظاہر نظر نہیں آتا، مگر طویل مدت میں فرد اور معاشرے دونوں کی ترقی کو متاثر کر رہا ہے۔ ماہرینِ سماجیات کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ کسی ایک فرد یا طبقے تک محدود نہیں، بلکہ مجموعی طرزِ زندگی اور عادات سے جڑا ہوا ہے۔

حیدرآباد کے مسلم معاشرے میں ٹال مٹول (Procrastination) ایک ایسا رویہ بنتا جا رہا ہے جو بظاہر نظر نہیں آتا، مگر طویل مدت میں فرد اور معاشرے دونوں کی ترقی کو متاثر کر رہا ہے۔ ماہرینِ سماجیات کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ کسی ایک فرد یا طبقے تک محدود نہیں، بلکہ مجموعی طرزِ زندگی اور عادات سے جڑا ہوا ہے۔

متعلقہ خبریں
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا
جدہ میں ہندوستانی قونصل خانے میں 77واں یومِ جمہوریہ شان و شوکت سے منایا گیا
شرفیہ قرأت اکیڈمی کے بارھویں دو روزہ حسن قرأت قرآن کریم مسابقے کا کامیاب اختتام
،،یس آر گارڈن نلگنڈہ میں تحفظِ عقائد کانفرنس اور اسناد و انعامات کی تقسیم،،

حیدرآباد اپنی تہذیبی روایات، رواداری اور علمی و تاریخی ورثے کے لیے ملک بھر میں ایک منفرد شناخت رکھتا ہے، جس میں مسلم معاشرہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم، بعض سماجی حلقوں میں وقت کی منصوبہ بندی، نظم و ضبط اور عملی تسلسل کی کمی ایک سنجیدہ چیلنج کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ دیر سے دن کا آغاز، واضح اہداف کا فقدان اور غیر ضروری سرگرمیوں میں وقت کا ضیاع، ترقی کی رفتار کو سست کر رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق ٹال مٹول دراصل فیصلوں اور کاموں کو مسلسل مؤخر کرنے کا عمل ہے، جس کے نتیجے میں قیمتی مواقع ضائع ہو جاتے ہیں۔ “بعد میں کر لیں گے” کی سوچ اکثر “اب وقت نہیں رہا” میں تبدیل ہو جاتی ہے، جس سے ذاتی اور اجتماعی ترقی متاثر ہوتی ہے۔

تاہم سماجی مبصرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ مسلم معاشرے میں تعلیم یافتہ، محنتی اور باصلاحیت افراد کی کوئی کمی نہیں۔ مختلف شعبوں میں ایسے کئی افراد موجود ہیں جنہوں نے وقت کی قدر، نظم و ضبط اور مستقل مزاجی کے ذریعے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ مسئلہ صلاحیت کا نہیں بلکہ اجتماعی طور پر منظم عادات اپنانے کا ہے۔

ترقی یافتہ برادریوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ وقت کی مؤثر تنظیم، واضح منصوبہ بندی اور مسلسل عمل ان کی کامیابی کی بنیادی وجوہات ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان تجربات سے سیکھنا کسی بھی معاشرے کے لیے فطری اور مثبت عمل ہے۔

دینی ماہرین کے مطابق اسلامی تعلیمات بھی وقت کی اہمیت، نظم و ضبط اور عملی جدوجہد پر زور دیتی ہیں۔ روزمرہ زندگی میں نظم، مقصدیت اور ذمہ داری کا احساس اپنانا فرد اور معاشرے دونوں کو مضبوط بناتا ہے۔

سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑی تبدیلیاں چھوٹے مگر مستقل اقدامات سے آتی ہیں، جیسے روزانہ کے چند واضح اہداف طے کرنا، وقت پر کام کا آغاز، غیر ضروری مصروفیات میں کمی اور سیکھنے کے عمل کو جاری رکھنا۔

یہ معاملہ کسی تنقید یا الزام کا نہیں بلکہ ایک تعمیری مکالمے کی ضرورت کا ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر ٹال مٹول کی جگہ نظم و ضبط اور غیر یقینی کی جگہ واضح سمت اختیار کر لی جائے تو نہ صرف فرد بلکہ پورا معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔