ایشیاء

پاکستان الیکشن کمیشن نے مکمل نتائج جاری کردیئے

پاکستان الیکشن کمیشن نے تنازعہ میں گھرے عام انتخابات کے مکمل نتائج پیر کے دن جاری کردیئے۔ اس نے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں تمام سیاسی جماعتوں کی پوزیشن بتادی۔

اسلام آباد: پاکستان الیکشن کمیشن نے تنازعہ میں گھرے عام انتخابات کے مکمل نتائج پیر کے دن جاری کردیئے۔ اس نے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں تمام سیاسی جماعتوں کی پوزیشن بتادی۔

متعلقہ خبریں
مریم نواز، پاکستان کے صوبہ پنجاب کی پہلی خاتون چیف منسٹر ہوں گی
پاکستان مسلم لیگ، عمران خان کے خلاف کسی بھی حد تک جائے گی: رانا ثناء اللہ
رات کی تاریکی میں ہمارا خط ِ اعتماد چُرالیا گیا : پاکستان تحریک انصاف کا شکوہ

عام انتخابات جمعرات کو ہوئے تھے لیکن نتائج کے اعلان میں غیرمعمولی تاخیر ہوئی جس کے نتیجہ میں کئی حلقوں میں دھاندلیوں کے الزامات لگے۔ جیل میں بند سابق وزیراعظم عمران خان کی پاکستان تحریک ِ انصاف (پی ٹی آئی) اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی پاکستان لیگ نواز دونوں نے جیت کا دعویٰ کیا لیکن مخلوط حکومت لازمی دکھائی دیتی ہے کیونکہ قومی اسمبلی میں کسی بھی ایک جماعت کواکثریت نہیں ملی۔

854 قومی اور صوبائی اسمبلی حلقوں میں ووٹ ڈالے گئے تھے۔ ابتدائی نتائج کے بموجب 348 آزاد امیدوار کامیاب رہے۔ آزاد امیدواروں کی بڑی اکثریت کو عمران خان کی پی ٹی آئی کی تائید حاصل ہے۔ یہ لوگ آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑنے پر اس لئے مجبور ہوئے تھے کہ پی ٹی آئی کو اس کے متنازعہ تنظیمی انتخابات کے باعث اپنے انتخابی نشان بیاٹ (بلے) سے محروم ہونا پڑا تھا۔

سیاسی جماعتوں میں پاکستان مسلم لیگ نواز227 نشستیں جیت کر سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری۔ پاکستان پیپلز پارٹی 160 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی جبکہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کو 45 نشستوں کے ساتھ تیسرامقامحاصل ہوا۔

قومی اسمبلی میں آزاد امیدواروں نے 101 نشستیں جیتیں جبکہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی پارٹی پی ایم ایل این کے حصہ میں 75‘ سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی پی پی پی کو 54 اور ایم کیو ایم پی کو 17 نشستیں حاصل ہوئیں۔ جمعیت علمائے اسلام فضل نے 4‘ پاکستان مسلم لیگ قائد نے 3‘ استحکام ِ پاکستان پارٹی نے 2‘ بلوچستان نیشنل پارٹی نے 2 نشستیں حاصل کیں۔

حکومت بنانے کے لئے پاکستان کی 265 رکنی قومی اسمبلی میں 133 نشستیں جیتنا لازمی ہے۔ اسی دوران مقامی میڈیا نے اطلاع دی کہ آئین کی رو سے صدر عارف علوی 29 فروری تک نئی قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس طلب کرنے کے پابند ہیں۔