حیدرآباد

اسکولس میں دوپہر کا کھانا تیار کرنےوالے ورکرس کا احتجاج، کئی اسکولس میں مڈ ڈے میل نہیں

سرکاری اسکولس کے صدور مدارس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ متبادل انتظام کریں بشمول سامان کی بازار سے خریداری کو یقینی بنائیں اور باورچیوں کا انتظام کریں تاکہ طلبہ کے لئے دوپہر کا کھانا تیار کیاجاسکے۔

حیدرآباد: تلنگانہ میں اسکولس میں دوپہر کا کھانا تیار کرنے والے ورکرس نے احتجاج کیا۔یہ ورکرس گذشتہ چار دنوں سے ہڑتال کررہے ہیں۔انہوں نے آج چلو حیدرآباد احتجاج کیا۔تلنگانہ مڈ ڈے میل اسکیم کے ورکرس کی ایسوسی ایشن نے اس احتجاج کی اپیل کی تھی۔

متعلقہ خبریں
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
جونیر ڈاکٹرس کی ہڑتال
،،یس آر گارڈن نلگنڈہ میں تحفظِ عقائد کانفرنس اور اسناد و انعامات کی تقسیم،،
بے روزگار نوجوانوں کیلئے ڈی ای ای ٹی ایک مؤثر ڈیجیٹل پلیٹ فارم: اقلیتی بہبود آفیسر آر۔ اندرا
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا

انہوں نے زیرالتوابلز کو فوری جاری کرنے کامطالبہ کیا۔ساتھ ہی انہوں نے اپنی تنخواہوں میں اضافہ کامطالبہ کرتے ہوئے اپنے مطالبہ کی حمایت میں نعرے بازی بھی کی۔

انہوں نے کہاکہ قبل ازیں ان کو دیئے جانے والے اعزازیہ کی رقم میں اضافہ کے احکام کے باوجود اعزازیہ میں اضافہ نہیں ہوا۔اسی دوران دوپہر کے کھانے کی اسکیم کے کنٹراکٹرس بھی بلز کی ادائیگی میں غیرمعمولی تاخیر کے سبب اس احتجاج میں شامل ہوگئے۔

سرکاری اسکولس کے صدور مدارس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ متبادل انتظام کریں بشمول سامان کی بازار سے خریداری کو یقینی بنائیں اور باورچیوں کا انتظام کریں تاکہ طلبہ کے لئے دوپہر کا کھانا تیار کیاجاسکے۔

اس احتجاج کے سبب سرکاری اسکولس میں دوپہر کے کھانا کی سپلائی متاثر ہوئی۔بعض اسکولس نے طلبہ سے خواہش کی ہے کہ وہ اپنے گھروں سے دوپہر کے کھانے کا ٹفن لائیں۔

ریاست کے تقریبا23لاکھ طلبہ دوپہر کے کھانے پر منحصر ہوتے ہیں۔اسی دوران بتایاجاتا ہے کہ محکمہ تعلیم نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرس کو ہدایت دی ہے کہ وہ متبادل انتظام کریں۔