جموں و کشمیر

جموں کے میڈیکل کالج میں 42 مسلم طلبہ کے منتخب ہونے پر احتجاج، کالج بند، تعصب پسندوں کا جشن

جموں و کشمیر میں واقع شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسی لینس (SMVD میڈیکل کالج) کو بند کیے جانے کے فیصلے نے پورے خطے میں شدید تشویش اور بحث کو جنم دے دیا ہے۔

جموں و کشمیر میں واقع شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسی لینس (SMVD میڈیکل کالج) کو بند کیے جانے کے فیصلے نے پورے خطے میں شدید تشویش اور بحث کو جنم دے دیا ہے۔ نیشنل میڈیکل کمیشن کی جانب سے کالج کی اجازت منسوخ کیے جانے کے بعد سب سے زیادہ متاثر وہ طلبہ ہوئے ہیں جنہوں نے نیٹ (NEET) امتحان پاس کر کے میرٹ کی بنیاد پر یہاں داخلہ حاصل کیا تھا۔

متعلقہ خبریں
مہذب سماج میں تشدد اور دہشت گردی ناقابل قبول: پرینکا گاندھی
سری نگر کو جموں و کشمیر کا مستقل دارالحکومت بنادیاجائے: انجینئر رشید
دفعہ 370، کشمیر اسمبلی کے پہلے اجلاس میں قرار داد کی منظوری متوقع
عوامی تعاون سے ہی نیشنل کانفرنس پھر سُرخ رو ہوئی: فاروق عبداللہ
تشکیل حکومت کا دعویٰ بہت جلد کیا جائے گا: فاروق عبداللہ

اس میڈیکل کالج کی پہلی ایم بی بی ایس بیچ میں کل 50 طلبہ منتخب ہوئے تھے، جن میں 42 مسلم طلبہ، 7 ہندو طلبہ اور 1 سکھ طالب علم شامل تھا۔ تمام طلبہ کا انتخاب مکمل طور پر میرٹ اور نیٹ کونسلنگ کے ذریعے ہوا تھا، تاہم طلبہ کی مذہبی شناخت کو بنیاد بنا کر بعض سیاسی اور دائیں بازو کے گروہوں کی جانب سے احتجاج کیا گیا، جس کے بعد یہ معاملہ شدت اختیار کر گیا۔

اس تنازع کے بعد نیشنل میڈیکل کمیشن نے کالج کی اجازت منسوخ کر دی، جس سے نہ صرف طلبہ بلکہ اساتذہ اور طبی عملہ بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گیا۔ اس فیصلے پر جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واضح کہا کہ یہ ایک انسانی اور تعلیمی مسئلہ ہے، نہ کہ سیاسی۔ ان کا کہنا تھا کہ جن طلبہ نے نیٹ پاس کیا ہے اور میرٹ پر منتخب ہوئے ہیں، انہیں ہر حال میں دیگر تسلیم شدہ میڈیکل کالجوں میں ایڈجسٹ کیا جانا چاہیے تاکہ ان کا مستقبل محفوظ رہ سکے۔

عمر عبداللہ نے یہ بھی کہا کہ تعلیم کو کسی بھی صورت میں انتظامی خامیوں یا سیاسی تنازعات کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ ملک بھر میں جہاں میڈیکل سیٹوں کے لیے سخت مقابلہ ہے، وہیں جموں و کشمیر میں ایک فعال میڈیکل کالج کا بند ہونا ناانصافی ہے۔

دوسری جانب، اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا اور زمینی سطح پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ کئی حلقوں نے الزام لگایا کہ چونکہ منتخب ہونے والے طلبہ میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ تھی، اس لیے مذہبی تعصب کی بنیاد پر اس ادارے کو نشانہ بنایا گیا۔ بعض دائیں بازو کے عناصر کی جانب سے اس فیصلے پر جشن منانے اور مٹھائیاں تقسیم کرنے کی تصاویر نے بھی عوامی غم و غصے کو مزید بڑھا دیا۔

متعدد طلبہ اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح مذہبی تعصب تعلیم جیسے حساس شعبے تک کو متاثر کر رہا ہے۔ ناقدین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر یہی روش جاری رہی تو وہ دن دور نہیں جب کالجوں اور یونیورسٹیوں کو بھی مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوششیں کی جائیں گی، جو ملک کے تعلیمی اور سماجی ڈھانچے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔

اس پورے معاملے میں سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ متاثرہ طلبہ نے کوئی غلطی نہیں کی۔ انہوں نے محنت سے نیٹ امتحان پاس کیا، میرٹ پر منتخب ہوئے، مگر اب ان کی شناخت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تعلیمی ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر تمام طلبہ کو متبادل میڈیکل کالجوں میں ایڈجسٹ کیا جائے اور اس پورے واقعے کی غیر جانبدارانہ جانچ کی جائے۔

یہ معاملہ اب محض ایک میڈیکل کالج کے بند ہونے کا نہیں رہا، بلکہ یہ سوال بن چکا ہے کہ کیا تعلیم بھی مذہبی سیاست کی بھینٹ چڑھتی رہے گی، یا میرٹ اور انصاف کو بالا دستی دی جائے گی؟