حیدرآباد

کانگریس حکومت کے دور میں عوامی تحفظ کو شدید خطرہ لاحق: تارک راما راو

سوشل میڈیا کے اہم پلیٹ فارم ایکس پرسرگرم تارک راما راو نے اس خصوص میں ایک ٹوییٹ کرتے ہویے واضح کیا کہ دن دہاڑے شہر کی ایک جیولری دکان میں گن پوائنٹ پر ڈکیتی ہونا اور کوکٹ پلی میں 12 سالہ لڑکی کا بہیمانہ قتل عوام میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔

حیدرآباد: حیدرآباد میں امن و امان کی صورتحال پر بی آر ایس کے کارگزارصدر تارک راما راو نے تشویش کا اظہار کیا۔ صرف ایک ہفتہ میں دو بڑے واقعات پیش آنے پر انہوں نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔

متعلقہ خبریں
متھن ریڈی کو ای ڈی کی نوٹس، شراب اسکام معاملہ میں پوچھ تاچھ
امریکہ میں شبِ قدر کے موقع پر مسجد دارالعلوم فاؤنڈیشن میں تہنیتی تقریب، مولانا محمد وحید اللہ خان کی 30 سالہ خدمات کا اعتراف
تلنگانہ کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں! کے ٹی راما راؤ کا سخت موقف
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت
حیدرآباد کی سرزمین اپنی گنگا جمنی تہذیب کے باعث صدیوں سے محبت، رواداری اور باہمی احترام کی ایک روشن مثال رہی ہے، اور آج بھی یہ خوبصورت روایت اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔


سوشل میڈیا کے اہم پلیٹ فارم ایکس پرسرگرم تارک راما راو نے اس خصوص میں ایک ٹوییٹ کرتے ہویے واضح کیا کہ
دن دہاڑے شہر کی ایک جیولری دکان میں گن پوائنٹ پر ڈکیتی ہونا اور کوکٹ پلی میں 12 سالہ لڑکی کا بہیمانہ قتل عوام میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔


کے ٹی آر نے کہا کہ کانگریس حکومت کے دور میں عوامی تحفظ کو شدید خطرہ لاحق ہے اور حکومت امن و امان پر ذرا بھی توجہ نہیں دے رہی۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ مؤثر تلنگانہ پولیس کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کرنے کی وجہ سے یہ حالات پیدا ہوئے ہیں۔ عوام کو تحفظ چاہیے، خوف نہیں۔