آندھراپردیش

انار کی قیمتوں میں ریکارڈ توڑ اضافہ: کسانوں کے چہروں پر مسکراہٹ، فی ٹن قیمت دو لاکھ روپے تک پہنچ گئی

تفصیلات کے مطابق، مارکٹ میں انار کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ انار نہ صرف ایک پسندیدہ پھل ہے بلکہ آیوروید اور طب میں بھی اسے بے حد اہمیت حاصل ہے۔ قوت مدافعت بڑھانے اور کئی بیماریوں کو کنٹرول کرنے میں اس کے فوائد کی وجہ سے اس کی مانگ ہمیشہ رہتی ہے۔

حیدرآباد: اے پی میں انار کی قیمتوں نے اب تک کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں جس کی وجہ سے کسان خوش ہیں۔ کل تک جو کاشتکار قیمت نہ ملنے کی وجہ سے پریشان تھے آج ان کے چہروں پر اطمینان کی لہر دوڑ گئی ہے۔

متعلقہ خبریں
دینی و عصری تعلیم کا حسین امتزاج کامیاب زندگی کی ضمانت ہے، وزیرِ اقلیتی بہبود و قانون کا جامعۃ المؤمنات میں خطاب
بچوں کے سامنے ہوم گارڈ کا خاتون کے ساتھ ’مجرا‘ — ویڈیو وائرل ہونے کےبعد محکمہ نے فوراً ڈیوٹی سے ہٹا دیا
اےپی کے وجیانگرم میں نو بیاہتا جوڑا مشتبہ حالات میں مردہ پایاگیا
آکاش ایجوکیشنل سروسز نے تلگو زبان میں یوٹیوب چینل کا آغاز کر کے امیدواروں کیلئے تعلیمی رسائی بڑھا دی
سمہا چلم اپنا سوامی مندر میں دیوار گرنے کا واقعہ، سافٹ ویر انجینئر جواڑا سمیت 8 افراد ہلاک

تفصیلات کے مطابق، مارکٹ میں انار کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ انار نہ صرف ایک پسندیدہ پھل ہے بلکہ آیوروید اور طب میں بھی اسے بے حد اہمیت حاصل ہے۔ قوت مدافعت بڑھانے اور کئی بیماریوں کو کنٹرول کرنے میں اس کے فوائد کی وجہ سے اس کی مانگ ہمیشہ رہتی ہے۔


حیرت انگیز بات یہ ہے کہ محض تین ماہ قبل تک انار صرف 50 ہزار روپے فی ٹن کے حساب سے فروخت ہورہا تھالیکن اب حالات مکمل طور پر بدل چکے ہیں۔ قیمتیں آہستہ آہستہ بڑھتے ہوئے ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

تاجروں کا کہنا ہے کہ مہاراشٹر اور گجرات جیسی ریاستوں میں پیداوار میں تاخیر کی وجہ سے قیمتوں میں یہ اچھال آیا ہے۔ فی الحال مارکٹ میں کوالٹی کے لحاظ سے تاجر ایک ٹن انار 2 لاکھ روپے تک میں خرید رہے ہیں۔


اگر موازنہ کیا جائے تو تین ماہ پہلے جو انار 50 ہزار روپے فی ٹن تھا ایک ماہ قبل اس کی قیمت ایک لاکھ سے ایک لاکھ دس ہزار روپے کے درمیان تھی جو اب بڑھ کر دو لاکھ روپے ہو چکی ہے۔

آندھرا پردیش میں تقریباً 15,500 ہیکٹر رقبہ پر انار کی کاشت کی جاتی ہے جس کا بڑا حصہ رائل سیما کے اضلاع جیسے کرنول، کڈپہ اور اننت پور میں واقع ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مقامی طور پر فروٹ کور اور پلانٹ کور جیسی تکنیکوں کے استعمال سے پھلوں کے معیار میں بہتری آئی ہے۔

اب کاشتکاروں میں اس بات پر بحث چھڑی ہے کہ یہ قیمتیں کب تک برقرار رہیں گی لیکن فی الحال اپنی فصل فروخت کرنے والے کسانوں کی مشکلات دور ہوتی نظر آ رہی ہیں۔