حیدرآباد

پروجیکٹس کو کرشنا ریور بورڈ کے حوالہ کرنا تلنگانہ کیلئے خطرناک:ہریش راؤ

ہریش راؤ نے کہاکہ مرکزی حکومت کے کنٹرول میں آبپاشی پروجیکٹس آنے سے آندھرا پردیش کو فائیدہ ہوگا اس سے تلنگانہ کے آبی وسائل کے لئے ایک بڑا خطرہ پیدا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس سلسلہ میں توجہ دینا چاہئے۔

حیدرآباد: بی آر ایس کے سابق وزیر ورکن اسمبلی ٹی ہریش راؤ نے تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے مشترکہ پروجیکٹوں کو کرشنا ریور مینجمنٹ بورڈ کے حوالہ کرنے سے تلنگانہ کو زبردست نقصان پہونچنے کا خدشہ ہے۔ اس اقدامات سے تلنگانہ میں پانی کی پریشانی لاحق ہوگی اور برقی کی پیداوار پر بھی اثر پڑے گا۔

متعلقہ خبریں
دینی و عصری تعلیم کا حسین امتزاج کامیاب زندگی کی ضمانت ہے، وزیرِ اقلیتی بہبود و قانون کا جامعۃ المؤمنات میں خطاب
شانگریلا گروپ کی جانب سے معذورین کے لیے خصوصی دعوتِ افطار، ماہرین کا تعلیم و تعاون پر زور
عازمین حج کمیٹی ٹیکہ اندازی کیمپ کا کل سے آغاز
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت
معروف تپ دق (ٹی بی) کے ماہر ڈاکٹر اڈیپو راجیشم کو “دی بیسٹ ٹی بی آفیسر،” ایوارڈ

 ٹی ہریش راؤ نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بی آر ایس دور حکومت میں سابق چیف منسٹر کے سی آر نے جولائی2021 کو کرشنا ریور دونوں ریاستوں کے پروجیکٹس کو کرشنا ریور مینجمنٹ بورڈ کے حوالہ کرنے کی تجویز رکھنے کی مخالفت کی تھی۔

انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت کے کنٹرول میں آبپاشی پروجیکٹس آنے سے آندھرا پردیش کو فائیدہ ہوگا اس سے تلنگانہ کے آبی وسائل کے لئے ایک بڑا خطرہ پیدا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس سلسلہ میں توجہ دینا چاہئے۔

 یہ منصوبوں پر عمل آوری کئے جانے سے قبل اس مسئلہ کو اپیکس کمیٹی سے رجو ع ہونے کی کوشش کرنا چاہئے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ تلنگانہ کے مفادات کو نقصان پہونچائے بغیر مسائل حل کرنے پر توجہ دینا چاہئے۔ پریس کانفرنس میں ایم ایل سی ڈی سرینواس اور سی آر ایس قائد آر چندر شیکھر ریڈی بھی موجود تھے۔