حیدرآباد

پروجیکٹس کو کرشنا ریور بورڈ کے حوالہ کرنا تلنگانہ کیلئے خطرناک:ہریش راؤ

ہریش راؤ نے کہاکہ مرکزی حکومت کے کنٹرول میں آبپاشی پروجیکٹس آنے سے آندھرا پردیش کو فائیدہ ہوگا اس سے تلنگانہ کے آبی وسائل کے لئے ایک بڑا خطرہ پیدا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس سلسلہ میں توجہ دینا چاہئے۔

حیدرآباد: بی آر ایس کے سابق وزیر ورکن اسمبلی ٹی ہریش راؤ نے تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے مشترکہ پروجیکٹوں کو کرشنا ریور مینجمنٹ بورڈ کے حوالہ کرنے سے تلنگانہ کو زبردست نقصان پہونچنے کا خدشہ ہے۔ اس اقدامات سے تلنگانہ میں پانی کی پریشانی لاحق ہوگی اور برقی کی پیداوار پر بھی اثر پڑے گا۔

متعلقہ خبریں
دینی و عصری تعلیم کا حسین امتزاج کامیاب زندگی کی ضمانت ہے، وزیرِ اقلیتی بہبود و قانون کا جامعۃ المؤمنات میں خطاب
مدرسہ صفۃ المسلمین ناچارم ولیج کا 14واں عظیم الشان اجلاسِ عام منعقد، فضائلِ قرآن پر خطابات، حفاظ کی دستاربندی
عازمین حج کمیٹی ٹیکہ اندازی کیمپ کا کل سے آغاز
چنچل گوڑہ میں شبِ برات کے موقع پر مرکزی جلسہ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ، 3 فروری کو انعقاد
پوسٹ میٹرک اسکالرشپ درخواستوں کی تاریخ میں توسیع، آخری تاریخ 31 مارچ 2026 مقرر

 ٹی ہریش راؤ نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بی آر ایس دور حکومت میں سابق چیف منسٹر کے سی آر نے جولائی2021 کو کرشنا ریور دونوں ریاستوں کے پروجیکٹس کو کرشنا ریور مینجمنٹ بورڈ کے حوالہ کرنے کی تجویز رکھنے کی مخالفت کی تھی۔

انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت کے کنٹرول میں آبپاشی پروجیکٹس آنے سے آندھرا پردیش کو فائیدہ ہوگا اس سے تلنگانہ کے آبی وسائل کے لئے ایک بڑا خطرہ پیدا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس سلسلہ میں توجہ دینا چاہئے۔

 یہ منصوبوں پر عمل آوری کئے جانے سے قبل اس مسئلہ کو اپیکس کمیٹی سے رجو ع ہونے کی کوشش کرنا چاہئے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ تلنگانہ کے مفادات کو نقصان پہونچائے بغیر مسائل حل کرنے پر توجہ دینا چاہئے۔ پریس کانفرنس میں ایم ایل سی ڈی سرینواس اور سی آر ایس قائد آر چندر شیکھر ریڈی بھی موجود تھے۔