جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی قیادت میں 26 نومبر 1949 کو ہندوستان کا آئین مکمل ہو کر منظور ہوا، اسی مناسبت سے 26 نومبر کو یومِ آئین منایا جاتا ہے۔ بعد ازاں 26 جنوری 1950 کو صبح 10 بج کر 18 منٹ پر آئینِ ہند کو باضابطہ طور پر نافذ کیا گیا، جس کے باعث اس دن کو یومِ جمہوریہ قرار دیا گیا۔
حیدرآباد: جامعہ راحت عالم للبنات، عنبرپیٹ، حیدرآباد میں ہر سال کی طرح اس سال بھی یومِ جمہوریۂ ہند کی تقریب نہایت جوش و خروش اور وقار کے ساتھ منعقد کی گئی۔ اس موقع پر پرچم کشائی کے بعد طالبات نے ایک ثقافتی پروگرام پیش کیا، جس میں حب الوطنی کے نغمے گائے گئے اور آزادیٔ ہند کی جدوجہد میں مسلمانوں کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
تقریب کی صدارت کرتے ہوئے جامعہ کی ڈائریکٹر ڈاکٹر رفعت سیما نے معلمات اور طالبات کو یومِ جمہوریہ کی مبارکباد پیش کی اور اس دن کی تاریخی و آئینی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی قیادت میں 26 نومبر 1949 کو ہندوستان کا آئین مکمل ہو کر منظور ہوا، اسی مناسبت سے 26 نومبر کو یومِ آئین منایا جاتا ہے۔ بعد ازاں 26 جنوری 1950 کو صبح 10 بج کر 18 منٹ پر آئینِ ہند کو باضابطہ طور پر نافذ کیا گیا، جس کے باعث اس دن کو یومِ جمہوریہ قرار دیا گیا۔
ڈاکٹر رفعت سیما نے مزید کہا کہ آئین کے نفاذ کے ساتھ ہی حکومتِ ہند ایکٹ 1935 کو منسوخ کر دیا گیا، جو برطانوی دور میں نافذ تھا، کیونکہ ملک دو سو سالہ غلامی سے آزادی حاصل کر چکا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جمہوریۂ ہند کا بنیادی مقصد یہ طے پایا کہ حکومت عوام کی ہو، عوام کے ذریعے چلائی جائے اور عوام ہی کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہر ہندوستانی کو آزاد اور جمہوری ملک کا شہری ہونے پر فخر ہونا چاہیے، تاہم اس کے ساتھ یہ بھی ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم جمہوری اقدار کی حفاظت کریں، ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے عملی کردار ادا کریں اور تعصب و جرائم سے پاک معاشرے کی تشکیل میں اپنا حصہ ڈالیں۔ انہوں نے کہا کہ یومِ جمہوریہ منانے کا مقصد بھی یہی پیغام دینا ہے۔
تقریب کے اختتام پر ملک میں ہم آہنگی، خوشحالی اور ترقی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔