آندھرا پردیش میں اسکرب ٹائفس سے مہلوکین کی تعداد 22 اموات
حالیہ واقعات میں 23 دسمبر کو باپٹلہ اور کاکناڈا میں ایک ایک شخص کی موت ہوگئی۔ ملک بھر میں اسکرب ٹائفس کے معاملات کے لحاظ سے آندھرا پردیش 12 ویں نمبر پر ہے جہاں اب تک تقریباً 2000 مثبت معاملات رپورٹ ہوئے ہیں۔
حیدرآباد: آندھرا پردیش میں اسکرب ٹائفس نامی بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے جس نے عوام میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں اس بیماری کی وجہ سے اب تک 22 افراد کی موت ہوچکی ہے۔
حالیہ واقعات میں 23 دسمبر کو باپٹلہ اور کاکناڈا میں ایک ایک شخص کی موت ہوگئی۔ ملک بھر میں اسکرب ٹائفس کے معاملات کے لحاظ سے آندھرا پردیش 12 ویں نمبر پر ہے جہاں اب تک تقریباً 2000 مثبت معاملات رپورٹ ہوئے ہیں۔
ریاست بھر میں ضلع چتور سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ بن کر ابھرا ہے جہاں اس سال ریکارڈ 491 معاملات درج کئے گئے ہیں۔ اس فہرست میں کاکناڈا 198 معاملات کے ساتھ دوسرے اور وشاکھاپٹنم 158 معاملات کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اسکرب ٹائفس کی بروقت تشخیص ہو جائے تو یہ ایک عام بخار کی طرح ٹھیک ہو سکتا ہے لیکن لوگ ابتدائی طور پر اسے معمولی بخار سمجھ کر عام ادویات لیتے ہیں اور جب حالت بگڑ جاتی ہے تو اسپتال کا رخ کرتے ہیں جو جان لیوا ثابت ہو رہا ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق یہ بیماری گندگی اور صفائی کے ناقص انتظامات کی وجہ سے پھیل رہی ہے۔ اگرچہ یہ بخار پچھلے 40 سالوں سے موجود ہے لیکن گزشتہ دو سالوں میں اس کی شدت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ دیگر ریاستوں کے مقابلہ میں آندھرا پردیش میں اموات کی شرح زیادہ ہے۔ اس سنگین صورتحال کو دیکھتے ہوئے اے پی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ بیکٹیریا کی اقسام کی شناخت اور گہرائی سے مطالعہ کے لئے جینوم سیکوینسنگ ٹسٹ کروائے گی۔