آندھراپردیش

اے پی کے کڑپہ میں تبلیغی جماعت کے دوسرے دن کا اجتماع۔لاکھوں افراد کی شرکت۔روحانیت اورایمانی حلاوت کا حسین امتزاج

آندھرا پردیش کے ضلع کڑپہ کے مضافات میں منعقدہ سہ روزہ تبلیغی اجتماع کا دوسرا دن روحانیت اور ایمانی حلاوت کے ایک حسین امتزاج کے ساتھ پُررہا جہاں آج فجر کی نماز کے بعد سے ہی اجتماع گاہ،اللہ کے ذکر اور تسبیح سے گونج اٹھا اور لاکھوں کی تعداد میں فرزندانِ توحید اپنے گناہوں سے توبہ اور اللہ کی رضا کے حصول کے لئے ایک جگہ جمع ہوئے۔

حیدرآباد: آندھرا پردیش کے ضلع کڑپہ کے مضافات میں منعقدہ سہ روزہ تبلیغی اجتماع کا دوسرا دن روحانیت اور ایمانی حلاوت کے ایک حسین امتزاج کے ساتھ پُررہا جہاں آج فجر کی نماز کے بعد سے ہی اجتماع گاہ،اللہ کے ذکر اور تسبیح سے گونج اٹھا اور لاکھوں کی تعداد میں فرزندانِ توحید اپنے گناہوں سے توبہ اور اللہ کی رضا کے حصول کے لئے ایک جگہ جمع ہوئے۔

متعلقہ خبریں
دینی و عصری تعلیم کا حسین امتزاج کامیاب زندگی کی ضمانت ہے، وزیرِ اقلیتی بہبود و قانون کا جامعۃ المؤمنات میں خطاب
شرمیلا کی امین پیر درگاہ پر حاضری
بچوں کے سامنے ہوم گارڈ کا خاتون کے ساتھ ’مجرا‘ — ویڈیو وائرل ہونے کےبعد محکمہ نے فوراً ڈیوٹی سے ہٹا دیا
اےپی کے وجیانگرم میں نو بیاہتا جوڑا مشتبہ حالات میں مردہ پایاگیا
آکاش ایجوکیشنل سروسز نے تلگو زبان میں یوٹیوب چینل کا آغاز کر کے امیدواروں کیلئے تعلیمی رسائی بڑھا دی

اس مبارک موقع پر علمائے کرام نے نہایت ہی رقت انگیز بیانات کئے جن کا مرکزی موضوع دنیا کی عارضی زندگی اور آخرت کی دائمی کامیابی رہا جبکہ علماء نے اس بات پر زور دیا کہ زندگی کے ہر موڑ پر پیارے نبی کریم ﷺ کی سنتوں کو زندہ کرنا ہی اصل کامیابی ہے اور ساتھ ہی پڑوسیوں، والدین اور غیر مسلم بھائیوں کے حقوق کی ادائیگی پر خاص توجہ دلائی گئی تاکہ سماج میں امن و سلامتی کی فضا قائم ہو سکے۔ پورا اجتماع گاہ ایک منظم مرکز کا منظر پیش کر رہا تھا جہاں لاکھوں افراد اللہ کی رضا کیلئے حاضر ہوئے۔


اس نورانی محفل میں شرکاء کو اللہ کی وحدانیت اورمحسن انسانیت نبی کریم ﷺ کی ختمِ نبوت پر پختہ یقین کے ساتھ زندگی گزارنے کا درس دیا گیا اور یہ پیغام عام کیا گیا کہ حقیقی کامیابی مال و دولت میں نہیں بلکہ احکاماتِ الٰہی کی پابندی میں پوشیدہ ہے۔

اجتماع گاہ میں موجود ہر شخص کی آنکھیں گناہوں کے احساس سے پرنم تھیں اور ہر طرف سے آمین کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں جو فضا میں ایک خاص روحانی کیفیت پیدا کر رہی تھیں۔ اجتماع کے دوسرے دن نوجوانوں کو خاص طور پر بری صحبت سے بچنے، منشیات سے دوری اختیار کرنے اور دینِ اسلام کی حقیقی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی تلقین کی گئی۔

علماء نے پُرزور انداز میں کہا کہ آج کے پرفتن دور میں ایمان کی حفاظت سب سے بڑا چیلنج ہے اور اس کے لئے مساجد کو آباد کرنا اور دینی ماحول سے وابستگی ناگزیر ہے، اسی دوران دور دراز سے آئے ہوئے قافلوں کے لئے پینے کے صاف پانی اور دیگر سہولیات فراہم کی گئیں۔

پولیس انتظامیہ نے بھی ٹریفک اور سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے تھے تاکہ اجتماع میں آنے والے مہمانوں کو کسی قسم کی تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس روح پرور اجتماع کا اختتام 25 جنوری کو ظہر کی نماز سے قبل اس دعا کے ساتھ ہوگا جب لاکھوں ہاتھ ایک ساتھ آسمان کی طرف اٹھیں گے اور عالمِ اسلام کی سربلندی، ملک کی امن و سلامتی، امت مسلمہ کے اتحاد اور پوری انسانیت کی ہدایت کے لئے رو رو کر خصوصی دعائیں مانگی جائیں گی۔

اس آخری دن کی دعا میں شرکت کے لئے مزید ہزاروں افراد کی آمد متوقع ہے جس کے لئے وسیع پیمانہ پر اضافی انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں۔