اپریل سے اندراامّا ہاؤسنگ اسکیم کا دوسرا مرحلہ، تلنگانہ میں بڑے پیمانے پر مکانات کی تعمیر کا آغاز
تلنگانہ میں اندرامّا ہاؤسنگ اسکیم کا دوسرا مرحلہ اپریل سے شروع ہوگا۔ حکومت نے لاکھوں مکانات کی تعمیر، براہِ راست فنڈ ٹرانسفر اور نئی شہری ہاؤسنگ پالیسی کا اعلان کیا ہے۔
تلنگانہ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اندراامّا ہاؤسنگ اسکیم کا دوسرا مرحلہ اپریل سے شروع کیا جائے گا، جو ریاست میں غریب اور مستحق خاندانوں کے لیے مکانات کی فراہمی کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔ وزیرِ ریونیو، ہاؤسنگ و اطلاعات پونگولیتی سرینواس ریڈی نے کہا کہ حکومت کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ تلنگانہ کا کوئی بھی مستحق خاندان بغیر گھر کے نہ رہے۔
وزیر موصوف نے کھمم میں منعقدہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اندراامّا ہاؤسنگ اسکیم اس وقت ریاست کی سب سے بڑی فلاحی اسکیم بن چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک تقریباً چار لاکھ مکانات منظور کیے جا چکے ہیں، جبکہ تین لاکھ کے قریب مکانات مختلف مراحل میں زیرِ تعمیر ہیں۔ حکومت کا ہدف ہے کہ مارچ تک ایک لاکھ مکانات مکمل کیے جائیں اور جون تک مزید دو لاکھ مکانات تیار ہو جائیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایڈولا پورم میونسپلٹی کے لیے 530 مکانات پہلے ہی منظور کیے جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق مستفیدین کا انتخاب مکمل طور پر اہلیت کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے اور اس عمل میں کسی بھی دلال یا درمیانی شخص کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ حکومت آئندہ تین برسوں میں ایسے تمام زمین رکھنے والے مگر بے گھر خاندانوں کو مکانات فراہم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ مکانات کی تعمیر کے لیے رقم براہِ راست مستفیدین کے بینک کھاتوں میں منتقل کی جائے گی۔ یہ رقم تعمیر کے مختلف مراحل، یعنی بنیاد، سلیب اور تکمیل کے وقت جاری کی جائے گی، تاکہ شفافیت برقرار رہے اور تعمیر کا عمل بروقت مکمل ہو۔
انہوں نے مزید بتایا کہ شہری علاقوں کے لیے ایک نئی اربن ہاؤسنگ پالیسی بھی تیار کی جا رہی ہے، جس کے تحت جی پلس تھری اور جی پلس فور رہائشی عمارتیں تعمیر کی جائیں گی۔ آؤٹر رنگ روڈ کے اطراف چار مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے، جہاں ہر مقام پر آٹھ سے دس ہزار مکانات تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ متوسط طبقے کے لیے بھی سستے مکانات کی اسکیم لانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
اسی دوران وزیر نے کھمم رورل منڈل میں انٹیگریٹڈ گورنمنٹ آفس کمپلیکس کا سنگِ بنیاد بھی رکھا، جو تقریباً 45 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا جائے گا۔ اس کمپلیکس میں تقریباً 19 سرکاری دفاتر ایک ہی چھت کے نیچے کام کریں گے، جس سے عوام کا وقت اور پیسہ دونوں بچیں گے۔ حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ تعمیراتی کام 8 سے 9 ماہ میں مکمل کیا جائے۔
وزیر نے یہ بھی بتایا کہ ایڈولا پورم کی ترقی کے لیے 221 کروڑ روپے مختص کیے جا چکے ہیں اور امید ظاہر کی کہ یہ میونسپلٹی جلد ایک مثالی شہری ادارہ بن کر ابھرے گی۔ بعد ازاں انہوں نے کلیانہ لکشمی اور شادی مبارک اسکیم کے تحت 129 مستفیدین میں چیک تقسیم کیے اور کہا کہ یہ اسکیمیں غریب خاندانوں کے لیے ایک مضبوط سہارا ہیں۔
حکام کے مطابق، اندراامّا ہاؤسنگ اسکیم کا دوسرا مرحلہ اور نئی شہری ہاؤسنگ پالیسی تلنگانہ کی تاریخ کی سب سے بڑی ہاؤسنگ توسیع ثابت ہوگی، جس کا مقصد غریب اور متوسط طبقے کے خاندانوں کو محفوظ اور باعزت رہائش فراہم کرنا ہے۔