امریکہ و کینیڈا

سیپ بلاٹر کا امریکی پالیسیوں کے خلاف بائیکاٹ کا اعلان، عالمی سطح پر کھلبلی!

امریکہ پہنچنے والے فٹ بال دیوانوں کو سخت امیگریشن رویوں، غیر ضروری تفتیش اور ذرا سی ناپسندیدگی پر ملک بدری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔سینیگل، آئیوری کوسٹ، ایران اور ہیٹی جیسے ممالک کے شائقین کے لیے امریکہ کے دروازے تقریباً بند نظر آ رہے ہیں، جس نے ٹورنامنٹ کی روح پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

واشنگٹن : فٹ بال کی دنیا کے سب سے طاقتور اور متنازع سابقہ شخصیت، سیپ بلاٹر نے ایک بار پھر عالمی فٹ بال کے ایوانوں میں زلزلہ برپا کر دیا ہے۔ فیفا کے سابق صدر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی سخت گیر پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے بائیکاٹ کی کھلی حمایت کر دی ہے۔

متعلقہ خبریں
نیتی آیوگ کی میٹنگ میں 8 چیف منسٹرس کی غیر حاضری بدقسمتی: بی جے پی

سیپ بلاٹر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر سوئس ماہرِ قانون مارک پیتھ کے اس مؤقف کی تائید کی ہے جس میں شائقین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ امریکہ جانے سے گریز کریں۔

مارک پیتھ کے مطابق، امریکہ پہنچنے والے فٹ بال دیوانوں کو سخت امیگریشن رویوں، غیر ضروری تفتیش اور ذرا سی ناپسندیدگی پر ملک بدری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔سینیگل، آئیوری کوسٹ، ایران اور ہیٹی جیسے ممالک کے شائقین کے لیے امریکہ کے دروازے تقریباً بند نظر آ رہے ہیں، جس نے ٹورنامنٹ کی روح پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

صرف بلاٹر ہی نہیں، بلکہ یورپ اور افریقہ کے فٹ بال حلقوں میں بھی امریکہ کے خلاف غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ جرمن فٹ بال فیڈریشن کے نائب صدر اوکے گوٹِلش نے مطالبہ کیا ہے کہ ورلڈ کپ کے بائیکاٹ پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب سیاسی بنیادوں پر اولمپکس کا بائیکاٹ ہو سکتا ہے تو اس ورلڈ کپ کا کیوں نہیں؟

جنوبی افریقہ کے سیاسی رہنما جولیئس ملیما نے اپنی قومی ٹیم سے ورلڈ کپ سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی حقوق کی پامالیوں پر خاموشی بزدلی ہے۔فیفا ورلڈ کپ 2026 امریکہ، کناڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں 11 جون سے شروع ہونا ہے، لیکن ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے بعض ممالک پر سفری پابندیوں نے اس میگا ایونٹ کو سیاست کی نذر کر دیا ہے۔ برطانیہ اور نیدرلینڈز میں بھی شائقین اس بائیکاٹ مہم کا حصہ بن رہے ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر بڑی ٹیموں نے دستبرداری کا فیصلہ کیا تو یہ تاریخ کا سب سے کمزور اور متنازع ورلڈ کپ ثابت ہو سکتا ہے