شمالی بھارت

گجرات ہائی کورٹ میں سیتلواد کی درخواست ضمانت کی مخالفت

سیتلواد کو گجرات‘ اُس وقت کے چیف منسٹر نریندرمودی اور بی جے پی کارکنوں کو بدنام کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔ حکومت نے گزشتہ سال بھی ان ہی بنیادوں پر سیشن عدالت میں سیتلواد کی درخواست ِ ضمانت کی مخالفت کی تھی۔

احمدآباد: حکومت ِ گجرات نے سماجی جہدکار تیستا سیتلواد کی گجرات ہائی کورٹ میں درخواست ِ ضمانت کی پرزور مخالفت کی ہے اور دلائل پیش کرتے ہوئے اس بات کو اجاگر کیا کہ وہ 2002 کے فسادات سے متعلق کیس میں ثبوتوں کے ساتھ چھیڑچھاڑ کرسکتی ہیں۔

استغاثہ نے چہارشنبہ کے روز دعویٰ کیا کہ کانگریس قائد احمد پٹیل نے فسادات کے لئے حکومت ِ گجرات کو موردِالزام ٹھہرانے کی وسیع تر سازش کے ایک حصہ کے طورپر سیتلواد‘ سنجیو بھٹ اور آر بی سری کمار کو 30 لاکھ روپے ادا کئے تھے۔

سیتلواد کو گجرات‘ اُس وقت کے چیف منسٹر نریندرمودی اور بی جے پی کارکنوں کو بدنام کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔ حکومت نے گزشتہ سال بھی ان ہی بنیادوں پر سیشن عدالت میں سیتلواد کی درخواست ِ ضمانت کی مخالفت کی تھی۔ مقدمہ کی سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے سیتلواد کو ایک ایسے سیاسی قائد کا آلہ قراردیا تھا جو گجرات کو بدنام کرنے کا مقصد رکھتا تھا۔

 وکیل استغاثہ نے اس بات پر زور دیا تھا کہ سیتلواد نے پولیس عہدیداروں سری کمار اور سنجیو بھٹ کے ساتھ مل کر گودھرا فسادات کے فوری بعد حکومت ِ گجرات کو غیرمستحکم کرنے ایک وسیع تر سازش کے حصہ کے طورپر پروپگنڈہ شروع کیا تھا۔

استغاثہ نے مزید انکشاف کیا تھا کہ سیتلواد کو ایک حریف سیاسی جماعت کے ممتاز قائد کی جانب سے مالی امداد وصول ہوئی تھی۔ انہوں نے سیتلواد کے سابق قریبی مددگار رئیس خان کو گواہ کی حیثیت سے پیش کیا تھا جنہوں نے سیتلواد اور پٹیل کے درمیان ملاقات کی تفصیلات بتائی تھیں اور کہا تھا کہ بعض افراد کے لئے سزا کو یقینی بنانے ہدایات دی گئی تھیں۔

 استغاثہ نے گواہوں کے درج شدہ بیانات اپنے دعوؤں کی تائید میں پیش کئے تھے۔ گواہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے پٹیل کی ہدایت پر سیتلواد کو رقمی ادائیگی کی تھی۔