حیدرآباد

ایل پی جی کی سپلائی میں کمی اور قیمتوں میں اچانک اضافہ،آٹو ڈرائے ورس کے ہزاروں خاندانوں کومشکلات

شہر کے مختلف حصوں میں آٹو ڈرائیوروں کو گیس ری فل کروانے کے لئے گھنٹوں انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ کئی اسٹیشنوں پرنو اسٹاک کے بورڈ لگے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ڈرائیور ایک اسٹیشن سے دوسرے اسٹیشن کے چکر لگانے پر مجبور ہیں۔

حیدرآباد: گیس کی قلت اور ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ نے حیدرآباد میں آٹو ڈرائیوروں کی زندگی اجیرن کر دی ہے جس کی وجہ سے وہ شدید معاشی بحران کا شکار ہو گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں
مائنارٹی سب پلان کے نفاذ کا مطالبہ، ایس سی، ایس ٹی، بی سی و مسلم فرنٹ کے وفد کی محمد اظہرالدین سے ملاقات
گولکنڈہ قلعہ کے ممنوعہ اراضی کے تحفظ کے لیے اے ایس آئی کو نمائندگی
ٹولی چوکی میں جلسہ یومُ الفرقان کا انعقاد
وزیر اعلیٰ تلنگانہ نے تلنگانہ قانون ساز کونسل کے نئے ہال کا افتتاح کیا۔ خواتین کو عالمی دن کی مبارکباد
عالمی یومِ خواتین پر خصوصی رپورٹ ساجدہ خان: بھارت کی پہلی خاتون آڈیو انجینئر اور خواتین کے لیے ایک مثال


ایل پی جی کی سپلائی میں کمی اور قیمتوں میں اچانک اضافہ نے آٹو چلانے والے ہزاروں خاندانوں کومشکل سے دوچار کردیا۔


شہر کے مختلف حصوں میں آٹو ڈرائیوروں کو گیس ری فل کروانے کے لئے گھنٹوں انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ کئی اسٹیشنوں پرنو اسٹاک کے بورڈ لگے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ڈرائیور ایک اسٹیشن سے دوسرے اسٹیشن کے چکر لگانے پر مجبور ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ دن کا آدھا وقت صرف گیس کی تلاش میں گزر جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ سواریاں نہیں اٹھا پاتے اور ان کی یومیہ کمائی آدھی سے بھی کم رہ گئی ہے۔


آٹو ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ گیس کی قیمت میں اضافہ ہورہا ہے لیکن سواریاں پرانے کرائے پر ہی سفر کرنا چاہتی ہیں۔ کرایہ بڑھانے پر مسافروں اور ڈرائیوروں کے درمیان تکرار اب روز کا معمول بن چکی ہے۔ ڈرائیوروں کے مطابق، موجودہ کمائی سے آٹو کی قسط ،گیس کا خرچ اور گھر کے اخراجات پورے کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔


اس بحران نے غریب اور متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے ان محنت کشوں کو ذہنی تناؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ کئی ڈرائیوروں نے بتایا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو وہ اپنے آٹو کھڑے کرنے پر مجبور ہو جائیں گے کیونکہ ایندھن کے اخراجات نکالنے کے بعد ان کے پاس دو وقت کی روٹی کے لئے بھی پیسے نہیں بچتے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گیس کی قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے اور سپلائی کو فوری طور پر بحال کیا جائے تاکہ ان کا روزگار بچ سکے۔