آندھراپردیش

بجلی کے اسمارٹ میٹرس۔شہری اپنے اخراجات کو خود کنٹرول کر سکیں گے

ایک وقت تھا جب صارفین کو بجلی کے بل کا انتظار کرنا پڑتا تھا اور میٹر ریڈنگ لینے والے ملازم کی آمد کی فکر رہتی تھی لیکن اب مرکزی حکومت کی ہدایات پر آندھرا پردیش اسٹیٹ الیکٹریسٹی ڈسٹری بیوشن کمپنی اسمارٹ میٹرس کی ٹکنالوجی کو عام کر رہی ہے۔

حیدرآباد: آندھرا پردیش میں بجلی کے صارفین کے لئے ایک بڑی تبدیلی لائی جا رہی ہے جہاں اب اسمارٹ میٹرس کے ذریعہ ہر شہری اپنے بجلی کے اخراجات کو خود کنٹرول کر سکے گا۔

متعلقہ خبریں
دینی و عصری تعلیم کا حسین امتزاج کامیاب زندگی کی ضمانت ہے، وزیرِ اقلیتی بہبود و قانون کا جامعۃ المؤمنات میں خطاب
اسمارٹ برقی میٹرس کے خلاف وڈودرا میں احتجاج
بچوں کے سامنے ہوم گارڈ کا خاتون کے ساتھ ’مجرا‘ — ویڈیو وائرل ہونے کےبعد محکمہ نے فوراً ڈیوٹی سے ہٹا دیا
اےپی کے وجیانگرم میں نو بیاہتا جوڑا مشتبہ حالات میں مردہ پایاگیا
آکاش ایجوکیشنل سروسز نے تلگو زبان میں یوٹیوب چینل کا آغاز کر کے امیدواروں کیلئے تعلیمی رسائی بڑھا دی

ایک وقت تھا جب صارفین کو بجلی کے بل کا انتظار کرنا پڑتا تھا اور میٹر ریڈنگ لینے والے ملازم کی آمد کی فکر رہتی تھی لیکن اب مرکزی حکومت کی ہدایات پر آندھرا پردیش اسٹیٹ الیکٹریسٹی ڈسٹری بیوشن کمپنی اسمارٹ میٹرس کی ٹکنالوجی کو عام کر رہی ہے۔

اس سلسلہ میں عوامی خدشات اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے خصوصی بیداری کے ہفتہ کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں پرچار رتھوں اور اشتہاری مواد کے ذریعہ لوگوں کو اس جدید ٹکنالوجی کے فوائد بتائے جا رہے ہیں۔


حکام کے مطابق اسمارٹ میٹر محض ایک مشین نہیں بلکہ یہ صارف کے اسمارٹ فون سے منسلک ہو جائے گاجس کے لئے ایک خصوصی ایپ بھی تیار کی گئی ہے۔

اس ایپ کے ذریعہ صارفین روزانہ کی بنیاد پر اپنی بجلی کی کھپت کی نگرانی کر سکیں گے اور اگر استعمال مقررہ حد سے بڑھتا ہے تو ایپ فوری طور پر الرٹ جاری کرے گی جس سے غیر ضروری پنکھے اور لائٹس بند کر کے بل میں کمی لائی جا سکے گی۔

یہ نظام موبائل پری پیڈ ریچارج کی طرح کام کرے گا جہاں پہلے سے رقم جمع کرانے پر بجلی فراہم کی جائے گی جس سے ماہ کے آخر میں بھاری بلوں کا صدمہ نہیں پہنچے گا۔ اسمارٹ میٹرس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ان میں انسانی مداخلت کے بغیر ریڈنگ براہ راست سرور تک پہنچ جاتی ہے جس سے ریڈنگ میں غلطی کا امکان ختم ہو جاتا ہے اور سو فیصد درست بلنگ یقینی ہوتی ہے۔


مرکزی وزارت بجلی کی آر ڈی ایس ایس اسکیم کے تحت پرانے میٹروں کو ہٹا کر نئے اسمارٹ میٹرس نصب کرنے کا کام تیزی سے جاری ہے اور اس کے لئے صارفین سے کوئی فیس وصول نہیں کی جا رہی ہے۔

محکمہ بجلی کے حکام کا کہنا ہے کہ اسمارٹ میٹر بوجھ نہیں بلکہ صارف کے ہاتھ میں ایک طاقت ہے جس سے بجلی کی بچت اور شفاف خدمات کا حصول ممکن ہے۔ محکمہ کے ڈی ای رویندر نے وضاحت کی کہ یہ میٹرس اعلیٰ معیار اور درستگی کے حامل ہیں جو پرانے میٹروں کی طرح اچانک جلنے یا رکنے کا شکار نہیں ہوتے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اگر کوئی صارف سولار پاور پلانٹ لگانا چاہتا ہے تو اسے الگ سے نیٹ میٹر لگانے کی ضرورت نہیں ہوگی کیونکہ یہ اسمارٹ میٹر خود نیٹ میٹر کے طور پر کام کر سکتے ہیں۔

صارفین اپنی ضرورت کے مطابق 250 یا 300 یونٹس تک کا کنٹرول سیٹ کر سکتے ہیں تاکہ بجلی کے اسراف کو روکا جا سکے۔ حکام نے اس تاثر کو محض ایک افواہ قرار دیا کہ اسمارٹ میٹر تیزی سے چلتے ہیں اور واضح کیا کہ میٹر خراب ہونے کی صورت میں اس کی مرمت کے لیے بھی کوئی سروس چارجس نہیں لئے جائیں گے۔