دہلی

حکومت ہند کی منافقت، اسرائیل کا نام لئے بغیر بیان جاری

ہندوستان نے جمعہ کے روز کہا کہ شمالی غزہ میں انسانی امداد کی تقسیم کے دوران جانوں کے اتلاف پر اُسے گہرا صدمہ پہنچا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز اس واقعہ میں زائد از 100 افراد شہید اور زائداز700 زخمی ہوئے تھے۔

نئی دہلی: ہندوستان نے جمعہ کے روز کہا کہ شمالی غزہ میں انسانی امداد کی تقسیم کے دوران جانوں کے اتلاف پر اُسے گہرا صدمہ پہنچا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز اس واقعہ میں زائد از 100 افراد شہید اور زائداز700 زخمی ہوئے تھے۔

متعلقہ خبریں
رفح پر اسرائیل کا فضائی حملہ، 18فلسطینی جاں بحق
اسرائیلی فوج کی بمباری کے نتیجہ میں ہونے والی ہلاکتوں پر معافی مانگ مانگتا ہوں: اسرائیلی صدر
نتن یاہو کے استعفیٰ تک پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج جاری رہے گا: اسرائیلی مظاہرین
غزہ کے عوام کا تاریخی صبر جس نے اسلام کا سر بلند کردیا: رہبر انقلاب اسلامی
غزہ میں امداد تقسیم کرنے والی ٹیم پر اسرائیل کی بمباری، 23 فلسطینی شہید

وزارت خارجہ نے سخت الفاظ پر مشتمل ایک بیان میں کہا کہ غزہ میں عام شہریوں کی زندگیوں کا ایسا نقصان اور وسیع تر انسانی صورتحال سخت تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔

وزارت خارجہ نے کہا کہ شمالی غزہ میں کل انسانی امداد کی تقسیم کے دوران جانوں کے نقصان پر ہمیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔

ہندوستان نے غزہ کے عوام کو محفوظ اور انسانی امداد کی بروقت تقسیم کی اپیل کی۔ اس بیان میں اسرائیل پر کوئی حوالہ نہیں دیا گیا۔

اسرائیلی فوج نے کل نہتے فلسطینی عوام کے ہجوم پر فائرنگ کردی تھی۔ جس میں زائداز100 افراد شہید اور دیگر 700 زخمی ہوگئے تھے۔

ہندوستان کشیدگی کم کرنے اور مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے لئے راست امن مذاکرات کی جلد بحالی کے حالات پیدا کرنے کی اپیل کرتا رہا ہے۔ اس واقعہ پر شدید بین الاقوامی ردِعمل ظاہر کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیوگٹریس نے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے ایکس پر لکھا کہ میں غزہ میں جمعرات کے روز پیش آئے واقعہ کی مذمت کرتا ہوں جس میں زندگی بچانے والی امداد حاصل کرنے کیلئے اکٹھا ہوئے 100 افراد شہید اور کئی زخمی ہوئے ہیں۔

گٹریس نے کہا کہ غزہ کے بے سہارا عام شہریوں کو ہنگامی امداد کی ضرورت ہے۔ ان میں شمال کے علاقے بھی شامل ہیں جہاں اقوام متحدہ زائداز ہفتہ سے امداد فراہم نہیں کرسکا ہے۔