ایس آرایچ مالک کاویا مارن پر سوشل میڈیا صارفین برہم، “بائیکاٹ سن رائزرس” ٹرینڈ کیوں ہونے لگا
انڈین پریمیئر لیگ کے ابتدائی برسوں میں پاکستانی کھلاڑیوں کو کھیلنے کا موقع دیا گیا تھا، تاہم بعد میں انہیں اس لیگ میں شامل نہیں کیا گیا۔ اس کے باوجود بیرون ملک ہونے والی مختلف لیگوں میں فرنچائزز اپنی حکمت عملی کے مطابق کھلاڑیوں کا انتخاب کرتی ہیں۔
حیدرآباد: سن رائزرس حیدرآباد کی سربراہ کاویا مارن ان دنوں سوشل میڈیا پر سخت تنقید کا سامنا کر رہی ہیں۔ نیٹ صارفین کی جانب سے ان کے خلاف ناراضی کا اظہار کیا جا رہا ہے اور “بائیکاٹ سن رائزرس” کا مطالبہ بھی زور پکڑتا جا رہا ہے۔
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب انگلینڈ میں منعقد ہونے والی دی ہنڈرڈ کرکٹ لیگ کی نیلامی میں سن رائزرس لیڈز فرنچائز نے پاکستان کے اسپنر ابرار احمد کو اپنی ٹیم میں شامل کر لیا۔ اس فیصلے کے بعد بعض بھارتی صارفین نے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل ظاہر کیا اور فرنچائز کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔
اطلاعات کے مطابق نیلامی کے دوران ابرار احمد کو 190,000 یورو یعنی تقریباً 2.34 کروڑ روپے میں خریدا گیا۔ سن رائزرس لیڈز کی جانب سے پاکستانی کھلاڑی کو ٹیم میں شامل کیے جانے پر کچھ افراد نے اعتراض کیا اور سوشل میڈیا پر کاویا مارن اور ٹیم کے خلاف تبصرے اور طنزیہ پیغامات جاری کیے۔
اس معاملے پر جب راجیو شکلا، جو بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ کے نائب صدر ہیں، سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس بارے میں بورڈ کا کوئی کردار نہیں ہے۔ ان کے مطابق دی ہنڈرڈ لیگ بھارتی کرکٹ بورڈ کے زیر انتظام نہیں ہے بلکہ یہ بیرون ملک ہونے والی لیگ ہے، اس لیے وہاں کی فرنچائزز کو کسی بھی ملک کے کھلاڑی کو منتخب کرنے کا اختیار حاصل ہے اور اس معاملے میں بھارتی کرکٹ بورڈ کچھ نہیں کر سکتا۔
واضح رہے کہ انڈین پریمیئر لیگ کے ابتدائی برسوں میں پاکستانی کھلاڑیوں کو کھیلنے کا موقع دیا گیا تھا، تاہم بعد میں انہیں اس لیگ میں شامل نہیں کیا گیا۔ اس کے باوجود بیرون ملک ہونے والی مختلف لیگوں میں فرنچائزز اپنی حکمت عملی کے مطابق کھلاڑیوں کا انتخاب کرتی ہیں۔
دوسری جانب ابرار احمد نے سن رائزرس لیڈز کی جانب سے منتخب کیے جانے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ فرنچائز کے شکر گزار ہیں اور ٹیم کی جانب سے اعتماد کرنے پر خاص طور پر کاویا مارن کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ابرار نے یہ بھی کہا کہ وہ اس سیزن میں اپنی بہترین کارکردگی کے ذریعے ٹیم کو دی ہنڈرڈ ٹرافی جیتنے میں بھرپور کردار ادا کرنے کی کوشش کریں گے۔
ادھر اس معاملے پر سوشل میڈیا پر بحث کا سلسلہ جاری ہے اور “بائیکاٹ سن رائزرس” کا مطالبہ مسلسل زیر بحث ہے۔