بدبخت بیٹے نے بوڑھے والدین کو کلہاڑی سے وار کر کے قتل کردیا
جمعہ کی صبح شیام لال اور ان کی بیوی رام جانکی کی لاشیں جھونپڑی میں پڑی ہوئی پائی گئیں۔ دونوں کے سروں پر تیز دھار ہتھیاروں کے نشانات تھے۔

اوریہ: اتر پردیش میں اوریہ ضلع کے دبیا پور تھانہ علاقہ کے پرانی دیبیا پور میں زمین کے تنازعہ پر ایک بزرگ جوڑے کو کلہاڑی کے وار سے قتل کر دیا گیا۔
جمعہ کو یہاں یہ اطلاع دیتے ہوئے پولیس ذرائع نے بتایا کہ پرانا دبیا پور کے رہنے والے 75 سالہ شیام لال کے تین بیٹے رماکانت، اوماکانت اور سرویش ہیں۔ تینوں گاؤں میں الگ الگ رہتے ہیں اور شیام لال اپنی بیوی رام جانکی کے ساتھ ایک جھونپڑی میں رہتے ہیں۔ چھوٹا بیٹا سرویش ان کی دیکھ بھال کرتا تھا۔
بتایا جاتا ہے کہ بڑے بیٹے رماکانت کی دو بیٹیاں تھیں جس کی وجہ سے اسے زمین میں حصہ نہیں دیا گیا۔ گاؤں میں سات بیگھہ زمین میں دو بھائیوں کا حصہ تھا اور رماکانت کا کوئی حصہ نہیں تھا۔ اس سے پہلے کچھ زمین بیچی گئی تھی جس کے پیسے بھی رماکانت کو نہیں ملے تھے۔ اسی پر جھگڑا چل رہا تھا اور کئی بار پولیس سے بھی شکایت کی گئی تھی۔
جمعہ کی صبح شیام لال اور ان کی بیوی رام جانکی کی لاشیں جھونپڑی میں پڑی ہوئی پائی گئیں۔ دونوں کے سروں پر تیز دھار ہتھیاروں کے نشانات تھے۔ ابتدائی طور پر یہ کلہاڑی سے کیا قتل معلوم ہوتا ہے۔ اطلاع پر پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی۔ چھوٹے بیٹے سرویش نے اپنے بڑے بھائی رماکانت پر قتل کا الزام لگایا۔
ایس پی چارو نگم نے موقع پر پہنچ کر تفتیش کی اور گھر والوں سے اچھی طرح پوچھ گچھ کی جس میں زمین کی تقسیم کا تنازعہ سامنے آیا۔ جبکہ بڑا بیٹا رماکانت موقع سے فرار ہوگیا۔ پولیس نے ملزم کے بڑے بیٹے کی بیوی کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لے لیا ہے۔
دوہرے قتل کے بعد گاؤں میں خاموشی ہے اور پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ ایس پی چارو نگم نے بتایا کہ لاشوں کا پوسٹ مارٹم کیا جا رہا ہے۔ ملزم بیٹے کی گرفتاری کے لیے پولیس ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔ قتل کے پیچھے زمین کی تقسیم کا تنازعہ سامنے آیا ہے۔