جموں و کشمیر

سری نگر کی تاریخی جامع مسجد مسلسل 10 ویں جمعہ کو بند

انجمن نے کہا کہ حکام نے ان بندشوں کی کوئی وجہ نہیں بتائی۔ اسی دوران میرواعظ نے جمعہ کو باربار مسجد بند رکھے جانے اور انہیں نظربند کئے جانے کی مذمت کی۔

سری نگر: جامع مسجد (نوہٹہ) کی انتظامی کمیٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ جموں وکشمیر نظم ونسق نے متواتر 10 ویں جمعہ کو نماز کی اجازت نہیں دی۔ انجمن اوقاف جامع مسجد نے ایک بیان میں کہا کہ حکام نے آج 10 ویں جمعہ کو نماز ہونے نہیں دی۔

متعلقہ خبریں
میرواعظ کو 5 ماہ بعد جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت
مہذب سماج میں تشدد اور دہشت گردی ناقابل قبول: پرینکا گاندھی
سری نگر کو جموں و کشمیر کا مستقل دارالحکومت بنادیاجائے: انجینئر رشید
دفعہ 370، کشمیر اسمبلی کے پہلے اجلاس میں قرار داد کی منظوری متوقع
عوامی تعاون سے ہی نیشنل کانفرنس پھر سُرخ رو ہوئی: فاروق عبداللہ

اس نے میر واعظ کشمیر محمد عمر فاروق کو جو خطبہ ئ جمعہ دیتے ہیں‘ ان کے بنگلہ میں نظربند کردیا۔ انجمن نے کہا کہ حکام نے ان بندشوں کی کوئی وجہ نہیں بتائی۔ اسی دوران میرواعظ نے جمعہ کو باربار مسجد بند رکھے جانے اور انہیں نظربند کئے جانے کی مذمت کی۔

 ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ایسے مخالف عوام اقدامات سے صورت ِ حال معمول پر ہونے کے حکمرانوں کے سارے نام نہاد دعوے جھوٹے ثابت ہوتے ہیں۔ میں سمجھنے سے قاصر ہوں کہ جامع مسجد کو باربار کیوں نشانہ بنایا جارہا ہے۔

 وادی کے مسلمانوں کو زک پہنچائی جارہی ہے اور نیا کشمیر میں انہیں ان کی اوقات دکھائی جارہی ہے۔ میرواعظ نے کہا کہ انچارج حکمرانوں کو مسلمانوں کے مذہبی جذبات سے کھلواڑ روک دینا چاہئے۔

 مسلمانوں کو کسی رکاوٹ کے بغیر ان کی اپنی مساجد میں عبادت کرنے دینا چاہئے۔ مذہبی حقوق پر حملوں پر عوام کی خاموشی کو ان کی کمزوری نہیں سمجھنا چاہئے۔