حیدرآباد

75 ہزار کے اسٹالز 5 تا 10 لاکھ میں فروخت، نامپلی ایگزیبیشن سوسائٹی پر تاجروں کے سنگین الزامات

نامپلی ایگزیبیشن میں اسٹال الاٹمنٹ کے عمل پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے طویل عرصے سے ایگزیبیشن میں اسٹال لگانے والے تاجر سید غوث الدین نے پریس کے ذریعے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔

نامپلی ایگزیبیشن میں اسٹال الاٹمنٹ کے عمل پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے طویل عرصے سے ایگزیبیشن میں اسٹال لگانے والے تاجر سید غوث الدین نے پریس کے ذریعے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ تقریباً 30 برسوں سے نامپلی ایگزیبیشن سے وابستہ ہیں، مگر حالیہ برسوں میں اسٹال الاٹمنٹ کے نظام میں شفافیت ختم ہو چکی ہے اور اصل حقداروں کو ان کا حق نہیں دیا جا رہا۔

سید غوث الدین کے مطابق آل انڈیا انڈسٹریل ایگزیبیشن سوسائٹی میں اسٹال الاٹمنٹ کے دوران بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہو رہی ہیں۔ الزام ہے کہ کنوینر پربھا شنکر کی جانب سے من پسند افراد کو نوازا جا رہا ہے اور پرائم لوکیشن والے اسٹالز بھاری رقم کے عوض الاٹ کیے جا رہے ہیں، جبکہ پرانے اور مستحق اسٹال ہولڈرز کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پرائم اسٹالز پر ’’پرائم‘‘ کے نام پر لاکھوں روپے وصول کیے جا رہے ہیں۔ جو اسٹال پہلے 75 ہزار یا ایک لاکھ روپے میں ملا کرتے تھے، وہ اب پانچ سے دس لاکھ روپے تک میں بلیک میں فروخت ہو رہے ہیں۔ ڈبل اسٹالز پر تو دس لاکھ روپے تک کی وصولی کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ ان کے مطابق زیادہ تر تاجر مجبوری کے عالم میں خاموش ہیں، کیونکہ آواز اٹھانے والوں کو اگلی بار ایگزیبیشن میں داخلے سے روک دیا جاتا ہے۔

پریس میٹ میں بتایا گیا کہ کئی اسٹالز بروکرز کے ذریعے الاٹ کیے جا رہے ہیں، جو دن رات ایگزیبیشن گراونڈ میں موجود رہتے ہیں۔ الزام ہے کہ کچھ بڑے بروکر درپردہ کام کر رہے ہیں اور ایک ہی اسٹال کو بار بار ری سیل کیا جا رہا ہے۔ اس پورے عمل میں نہ فائر سیفٹی کے اصولوں کا خیال رکھا جا رہا ہے اور نہ ہی جی ایچ ایم سی یا دیگر متعلقہ اداروں کے قواعد پر عمل ہو رہا ہے۔

شکایت میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ جی ایس ٹی اور دیگر سرکاری فیسوں کے حوالے سے بھی شفافیت نہیں ہے، اور حکومت کو ہونے والا ممکنہ ریونیو متاثر ہو رہا ہے۔ دعویٰ کیا گیا کہ فارم پر کچھ اور رقم درج کی جاتی ہے جبکہ اصل میں اس سے کہیں زیادہ رقم وصول کی جاتی ہے۔

سید غوث الدین نے مزید کہا کہ ایگزیبیشن کا اصل مقصد غریب اور متوسط طبقے کے لوگوں کو روزگار فراہم کرنا تھا، مگر اب یہ ایگزیبیشن چند طاقتور بروکرز اور بااثر افراد کے مفادات کی نذر ہو چکی ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ نیلوفر ہوٹل کے مالکان کو تقریباً 75 اسٹالز 75 لاکھ میں دیے گئے ہیں، جبکہ غریب عوام سے پرائم کے نام پر 5 تا 10 لاکھ وصول کئے جاریے ہیں۔

شکایت کنندہ کی جانب سے آل انڈیا انڈسٹریل ایگزیبیشن سوسائٹی کو تحریری شکایت بھی دی گئی ہے، جس میں اسٹال الاٹمنٹ کے پورے عمل کی آزادانہ اور شفاف جانچ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ خط میں یہ بھی ذکر ہے کہ کنوینر اور ان سے وابستہ افراد کی جانب سے دھمکیوں اور ہراسانی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

آخر میں سید غوث الدین نے حکومتِ تلنگانہ، متعلقہ محکموں اور ایگزیبیشن سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کی فوری جانچ کرائیں، بلیک مارکیٹنگ میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کریں اور اصل حقداروں کو ان کا حق دلائیں، تاکہ نامپلی ایگزیبیشن ایک بار پھر غریب اور محنت کش طبقے کے لیے روزگار کا ذریعہ بن سکے۔