مامونور ایئرپورٹ پر جدید فلائنگ اسکول کے قیام کے اقدامات
حکومت تلنگانہ ضلع ورنگل کے مامونور ایئرپورٹ پر ایک جدید فلائنگ اسکول قائم کرنے کے لئے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ اس فیصلہ کی بنیادی وجہ حیدرآباد میں بڑھتا ہوا فضائی ٹریفک ہے جس کے باعث زیرِ تربیت پائلٹس کو پرواز کے لئے مطلوبہ گھنٹے حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
حیدرآباد: حکومت تلنگانہ ضلع ورنگل کے مامونور ایئرپورٹ پر ایک جدید فلائنگ اسکول قائم کرنے کے لئے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ اس فیصلہ کی بنیادی وجہ حیدرآباد میں بڑھتا ہوا فضائی ٹریفک ہے جس کے باعث زیرِ تربیت پائلٹس کو پرواز کے لئے مطلوبہ گھنٹے حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
شمس آباد اور ڈنڈیگل میں کمرشل پروازوں کی کثرت اور بیگم پیٹ ایئرپورٹ پر نجی طیاروں و ہیلی کاپٹرس کی آمد و رفت کے باعث ٹریننگ طیاروں کو ایئر ٹریفک کنٹرول سے کلیئرنس ملنے میں تاخیر ہوتی ہے جس سے تربیت کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔
حالیہ ونگس انڈیاکانفرنس میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں ملک بھر میں تقریباً 10 ہزار پائلٹس کی ضرورت ہوگی۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لئے حکومت نے مامونور ایئرپورٹ کو بہترین متبادل کے طور پر منتخب کیا ہے۔
ورنگل، حیدرآباد سے قریب ہونے کی وجہ سے انسٹرکٹرس کے لئے قابلِ رسائی ہے اور یہاں ابتدائی برسوں میں کمرشل ٹریفک کم ہونے کی وجہ سے ٹریننگ کے لئے زیادہ وقت دستیاب ہوگا۔ اس کے علاوہ، ورنگل میں رہنے کے اخراجات کم ہونے کی وجہ سے طلبہ پر مالی بوجھ بھی کم پڑے گا۔
حکومت کے منصوبہ کے مطابق ورنگل اور عادل آباد کے ایئرپورٹس کو صرف ٹریننگ تک محدود نہیں رکھا جائے گا بلکہ انہیں کارگو سروسس، طیاروں کی دیکھ بھال، مرمت اور اوور ہالنگ کے مراکز کے طور پر بھی تیار کیا جائے گا۔
ان دونوں اضلاع کے اطراف زرعی سرگرمیاں زیادہ ہونے کی وجہ سے کارگو سروسس سے کسانوں اور تاجروں کو اپنی مصنوعات برآمد کرنے میں آسانی ہوگی اور شمس آباد ایئرپورٹ پر دباؤ کم ہوگا۔
حکام کا ماننا ہے کہ ان سہولیات کے آغاز سے ورنگل اور عادل آباد کے ایئرپورٹس کو عالمی سطح پر پہچان ملے گی اور فضائی ٹریفک میں اضافہ ہوگا۔ اس ترقیاتی منصوبہ سے نہ صرف مقامی نوجوانوں کے لئے براہ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ ان علاقوں میں تجارتی سرگرمیوں کو بھی زبردست فروغ ملے گا۔