تلنگانہ

تلنگانہ میونسپل انتخابات: ووٹوں کی گنتی سخت سکیورٹی کے درمیان شروع

گنتی کے عمل کو پرامن طور پر یقینی بنانے کے لیے تقریباً 12,000 پولیس اہلکاروں کے ساتھ مسلح افواج اور کوئیک رسپانس ٹیمیں بھی گنتی مراکز پر تعینات کی گئی ہیں۔ صرف مجاز افراد جو درست پاس رکھتے ہیں، سکیورٹی چیک کے بعد داخل ہو سکتے ہیں۔

حیدرآباد: تلنگانہ میں 116 میونسپلٹیوں اور سات میونسپل کارپوریشنز کے انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی جمعہ کو صبح 8 بجے سخت سکیورٹی انتظامات کے درمیان شروع ہوئی۔

متعلقہ خبریں
تلنگانہ میں مجالس مقامی کے انتخابات کی تیاریاں
اے پی سی آر تلنگانہ (APCR) کا ریاست گیر پیرالیگل ایکٹوسٹ و کارکنان کے لئے تربیتی پروگرام کا کامیاب اختتام
نارائن پیٹ میں ضلع کانگریس کی نئی کمیٹی کا اعلان، پارٹی کو گاؤں کی سطح تک مضبوط بنانے پر زور
علمِ بی بی مبارک کی سواری کے لیے ہاتھی کی منظوری، میر فراست علی باقری کا حکومتِ تلنگانہ اور جی کشن ریڈی سے اظہارِ تشکر
نیشنل اوورسیز اسکالرشپ: گاؤں اور چھوٹے قصبوں کے طلبہ کے عالمی تعلیمی خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا ذریعہ


انتخابات 11 فروری کو منعقد ہوئے، جن میں کل 12,930 امیدوار 2,996 وارڈز کے لیے میدان میں تھے۔ ان میں سے 14 وارڈز (12 میونسپل اور 2 کارپوریشن وارڈز) میں امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوئے، جبکہ ایک وارڈ میں پولنگ ملتوی کر دی گئی۔

تقریباً 52,17,413 ووٹرز نے اپنے حق رائے دیہی کا استعمال کیا۔ ووٹرز نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرتے ہوئے 73 فیصد سے زیادہ ووٹنگ ریکارڈ کی ۔


گنتی کا عمل ریاست کے 123 مراکز پر جاری ہے۔ ابتدا میں پوسٹل بیلٹس کی گنتی کی گئی، اس کے بعد عام بیلٹ پیپرز کی گنتی شروع کی گئی۔


انتظامیہ نے بتایا کہ چونکہ بیلٹ پیپرز استعمال کیے گئے ہیں، اس لیے گنتی میں وقت لگ سکتا ہے۔


گنتی کے عمل کو پرامن طور پر یقینی بنانے کے لیے تقریباً 12,000 پولیس اہلکاروں کے ساتھ مسلح افواج اور کوئیک رسپانس ٹیمیں بھی گنتی مراکز پر تعینات کی گئی ہیں۔ صرف مجاز افراد جو درست پاس رکھتے ہیں، سکیورٹی چیک کے بعد داخل ہو سکتے ہیں۔


گنتی مراکز کے ارد گرد 200 میٹر کے دائرہ میں بڑے اجتماعات اور ہتھیار لے جانے پر پابندی ہے۔ مقامی پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ کسی بھی خلاف ورزی پر فوری کارروائی کی جائے۔