تلنگانہ

تلنگانہ کے وزیراعلی کا دورہ عثمانیہ یونیورسٹی۔لوہے کی جالیاں لگانے پر پراوین کمار کا اعتراض

پراوین کمار نے الزام لگایا کہ ریونت ریڈی حکومت طلبہ اور نوجوانوں کے حقیقی مسائل کو حل کرنے کے بجائے ان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیروزگار نوجوان اور طلبہ اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے سوال اٹھا رہے ہیں، مگر حکومت ان کی آواز کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔

حیدرآباد: وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کے دورۂ عثمانیہ یونیورسٹی کے موقع پر احاطہ میں لوہے کی جالیاں اور بھاری پولیس فورس کی تعیناتی پر بی آر ایس کے رہنما آر ایس پراوین کمار نے سخت اعتراض کیا۔

متعلقہ خبریں
ڈاکٹر فہمیدہ بیگم کی قیادت میں جامعہ عثمانیہ میں اردو کے تحفظ کی مہم — صحافیوں، ادبا اور اسکالرس متحد، حکومت و یو جی سی پر دباؤ میں اضافہ
وزیر اعلیٰ تلنگانہ نے تلنگانہ قانون ساز کونسل کے نئے ہال کا افتتاح کیا۔ خواتین کو عالمی دن کی مبارکباد
گولکنڈہ قلعہ کے ممنوعہ اراضی کے تحفظ کے لیے اے ایس آئی کو نمائندگی
ٹولی چوکی میں جلسہ یومُ الفرقان کا انعقاد
محبوب نگر میں جامع مسجد میں دعوتِ افطار، مسلم کارپوریٹرس کی تہنیتی تقریب میں رکن اسمبلی اینم سرینواس ریڈی کی شرکت

سوشیل میڈیا پر سرگرم پروین کمار نے یونیورسٹی کے مختلف حصوں میں لگائی گئی لوہے کی باڑ کی ویڈیوز پوسٹ کرتے ہوئے حکومت کو نشانہ بنایا۔


انہوں نے کہا کہ جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر کے یونیورسٹی کو قلعہ میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور طلبہ کو محصور کر دیا گیا ہے۔ پروین کمار نے سوال اٹھایا کہ وزیراعلیٰ کو یونیورسٹی کے اندر داخل ہونے کے لیے آخر اتنے سخت حفاظتی انتظامات کی کیا ضرورت پیش آئی؟ یہ غیر معمولی بندوبست کیوں کیا گیا؟ کیا طلبہ کسی دہشت گرد کی مانند سمجھے جا رہے ہیں؟


انہوں نے مزید کہا کہ عثمانیہ یونیورسٹی جمہوری تحریکوں کی نرسری ہے، لیکن آج یہاں طلبہ کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق لوہے کی باڑیں اور پولیس کا بھاری بندوبست حکومت کے طلبہ مخالف رویے کو ظاہر کرتا ہے۔


پراوین کمار نے الزام لگایا کہ ریونت ریڈی حکومت طلبہ اور نوجوانوں کے حقیقی مسائل کو حل کرنے کے بجائے ان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیروزگار نوجوان اور طلبہ اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے سوال اٹھا رہے ہیں، مگر حکومت ان کی آواز کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔


انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے ایسے اقدامات جاری رکھے تو طلبہ اور نوجوانوں میں غصہ مزید بھڑک اٹھے گا اور یہ حکومت کے لیے بڑے چیلنج کا سبب بن سکتا ہے۔